Oplus_16908288
تاریخ شہادت: 6 نومبر 2012
🤲 التماس سورہ فاتحہ مع صلواۃ
شہید علامہ آفتاب حیدر جعفری نے 1963 میں عزادار اور محب اہل بیت علیہم السلام ،معراج احمد جعفری کے گھر انکھ کھولی یہ عقب جیکب لائن کراچی میں ایک متوسط مگر محمد و ال محمد علیہم السلام کی محبت و مودت کے خزانے سے مالا مال گھرانہ تھا اپ نے دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد روزگار کے لیے بینکنگ کا شعبہ اختیار کیا جہاں آپ شعلہ بیاں اور جوش سے بھرپور مقرر تھے وہیں اپ انجمن کربلائے حسینی کے صاحب بیاض اور ایک بہترین شاعر بھی تھے حق بات کہنے میں نہ کبھی ڈرے نہ خوفزدہ ہوئے اور اسی حق گوئی کی وجہ سے قید و بند کی سختیاں بھی جھیلیں مجالس سے خطاب کے سلسلے میں پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ بیرون ملک کے دورے بھی کیے یہاں تک کہ اپ نے ایک ایک عشرے میں 100 سے زیادہ مجالس پڑھیں جو ایک ریکارڈ بھی ہے۔
تنظیم آزادی فلسطین کے لیے اپ کی بہت خدمات ہیں علامہ آغا افتاب حیدر جعفری اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے جو کہ ہر مکتب فکر کے لوگوں سے محبت اور شفقت سے پیش آتے پوری زندگی سادہ طبیعت میں گزاری مستحق طالب علموں کی مالی مدد بھی کرتے اور ہر ایک کے دکھ درد میں پیش پیش رہتے چھ نومبر 2012 کا دن تھا جب شیعہ قوم کا یہ سرمایہ اپنے دوست کے ساتھ ڈیوٹی پر جا رہا تھا کہ سپاہ یزید کے نمک خواروں نے دن دہاڑے صدر میں واقع پارکنگ پلازہ کے قریب حملہ کر کے شہید کر دیا اور حسب سابق فرار ہو گئے اپ کے ساتھ دوست جناب شاہد علی مرزا بھی موقع پر شہید ہو گئے جنہیں آپ اپنا حبیب ابن مظاہر کہا کرتے تھے
قتل چھپتے تھے کبھی سنگ دیوار کے بیچ
اب تو کھلنے لگے ہیں مقتل بھرے بازار کے بیچ
جنازہ بڑی شان و شوکت سے اٹھا آپ کے جلوس جنازہ پر بھی راستے میں دو مقامات پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں تین نوجوانوں نے جام شہادت نوش فرمایا مگر شہید کا جنازہ اپنی آب و تاب کے ساتھ منزل کی طرف گامزن رہا اپنی 49 سالہ مختصر سی زندگی میں بڑے بڑے کام کیے جو ان کی شہادت کے بعد منظر عام پر آیاں ہونا شروع ہوئے شہید اغا آفتاب حیدر جعفری ایک بہترین شوہر بہترین بیٹے بہترین بھائی وہ بہترین دوست ہیں بڑوں کے ساتھ بڑے بچوں کے ساتھ بچے بن جاتے تھے ملت کی جوانوں سے بہت پیار کرتے تھے ان کے تمام دوست بہت خلوص ملنسار تھے ہر ایک کا خندہ پیشانی سے استقبال کرنے والے لگنے والے تھے ہر دل ابھی شخصیت کے مالک تھے ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے وہ مجاہد تھے دلیر تھے مخلص تھے۔
آپ اکثر کہا کرتے تھے کہ میں جس مقام پر ہوں یہ صرف اور صرف جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کی خصوصی عنایت کی وجہ سے ہے ملت تشیع میں اپ کی شہادت سے ایک وسیع خلا پیدا ہو گیا اور ملت ایک سائبان بہادر اور دلیر شخص سے محروم ہو گئ


































