Fri Nov 06, 2026

ایران دشمنی میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ جماعتوں میں کوئی فرق نہیں، آیت اللہ محمد حسن اختری نیتن یاہو کے وزیراعظم بننے کے امکانات ختم، عرب جماعتوں نے اپوزیشن لیڈر کی حمایت کردی ایران اور عرب امارات کے وزرائے خارجہ کا رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال ایرانی عدالتیں امریکا کے خلاف 300 ارب ڈالر مالیت کے فیصلے جاری کرچکی میجر جنرل محسن رضائی کی روسی صدر سے ملاقات، ولی امر مسلمین کا پیغام پہنچایا سعودی حملوں کے جواب میں یمنی فوج کا دمام میں شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ آئی اے ای اے سربراہ گروسی ایران کی حساس معلومات مخالفین تک پہنچارہے ہیں، محمد سلامی اسحاق ڈار کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو حکومت نے ٹل پارہ چنار روڈ کی طویل بندش کا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھانے سے روک دیا آبنائے ہرمز میں غیر مجاز راستے سے گزرنے کی کوشش، دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگ گئی ٹرمپ کو اپنی پالیسیوں اور اقدامات پر جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے، برنی سینڈر ایرانی قوم نے ٹرمپ کو سیاسی شکست سے دوچار کر دیا، محسن رضائی امریکا میں تبدیلی سے ایران کیخلاف موقف تبدیل نہیں ہوگا، ولی امر مسلمین ایران جنگ ری پبلکن پارٹی کی شکست کی وجہ بنی، امریکی نائب صدر نے بھی مان لیا آبنائے ہرمز کی بندش سے یورپ کو 127 ارب یورو کا نقصان پہنچا ہے، صدر یورپی کمیشن

روزانہ کی خبریں

شہید علامہ آفتاب حیدر جعفری

Oplus_16908288

تاریخ شہادت: 6 نومبر 2012

🤲 التماس سورہ فاتحہ مع صلواۃ

شہید علامہ آفتاب حیدر جعفری نے 1963 میں عزادار اور محب اہل بیت علیہم السلام ،معراج احمد جعفری کے گھر انکھ کھولی یہ عقب جیکب لائن کراچی میں ایک متوسط مگر محمد و ال محمد علیہم السلام کی محبت و مودت کے خزانے سے مالا مال گھرانہ تھا اپ نے دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد روزگار کے لیے بینکنگ کا شعبہ اختیار کیا جہاں آپ شعلہ بیاں اور جوش سے بھرپور مقرر تھے وہیں اپ انجمن کربلائے حسینی کے صاحب بیاض اور ایک بہترین شاعر بھی تھے حق بات کہنے میں نہ کبھی ڈرے نہ خوفزدہ ہوئے اور اسی حق گوئی کی وجہ سے قید و بند کی سختیاں بھی جھیلیں مجالس سے خطاب کے سلسلے میں پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ بیرون ملک کے دورے بھی کیے یہاں تک کہ اپ نے ایک ایک عشرے میں 100 سے زیادہ مجالس پڑھیں جو ایک ریکارڈ بھی ہے۔

تنظیم آزادی فلسطین کے لیے اپ کی بہت خدمات ہیں علامہ آغا افتاب حیدر جعفری اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے جو کہ ہر مکتب فکر کے لوگوں سے محبت اور شفقت سے پیش آتے پوری زندگی سادہ طبیعت میں گزاری مستحق طالب علموں کی مالی مدد بھی کرتے اور ہر ایک کے دکھ درد میں پیش پیش رہتے چھ نومبر 2012 کا دن تھا جب شیعہ قوم کا یہ سرمایہ اپنے دوست کے ساتھ ڈیوٹی پر جا رہا تھا کہ سپاہ یزید کے نمک خواروں نے دن دہاڑے صدر میں واقع پارکنگ پلازہ کے قریب حملہ کر کے شہید کر دیا اور حسب سابق فرار ہو گئے اپ کے ساتھ دوست جناب شاہد علی مرزا بھی موقع پر شہید ہو گئے جنہیں آپ اپنا حبیب ابن مظاہر کہا کرتے تھے

قتل چھپتے تھے کبھی سنگ دیوار کے بیچ
اب تو کھلنے لگے ہیں مقتل بھرے بازار کے بیچ

جنازہ بڑی شان و شوکت سے اٹھا آپ کے جلوس جنازہ پر بھی راستے میں دو مقامات پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں تین نوجوانوں نے جام شہادت نوش فرمایا مگر شہید کا جنازہ اپنی آب و تاب کے ساتھ منزل کی طرف گامزن رہا اپنی 49 سالہ مختصر سی زندگی میں بڑے بڑے کام کیے جو ان کی شہادت کے بعد منظر عام پر آیاں ہونا شروع ہوئے شہید اغا آفتاب حیدر جعفری ایک بہترین شوہر بہترین بیٹے بہترین بھائی وہ بہترین دوست ہیں بڑوں کے ساتھ بڑے بچوں کے ساتھ بچے بن جاتے تھے ملت کی جوانوں سے بہت پیار کرتے تھے ان کے تمام دوست بہت خلوص ملنسار تھے ہر ایک کا خندہ پیشانی سے استقبال کرنے والے لگنے والے تھے ہر دل ابھی شخصیت کے مالک تھے ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے وہ مجاہد تھے دلیر تھے مخلص تھے۔

آپ اکثر کہا کرتے تھے کہ میں جس مقام پر ہوں یہ صرف اور صرف جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کی خصوصی عنایت کی وجہ سے ہے ملت تشیع میں اپ کی شہادت سے ایک وسیع خلا پیدا ہو گیا اور ملت ایک سائبان بہادر اور دلیر شخص سے محروم ہو گئ

مزید پڑھیے

Most Popular