تہران : ایران نے اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگران ادارے کے سربراہ رافیل گروسی پر ایران کی حساس معلومات مخالفین تک پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔ روسی نشریاتی ادارے آر ٹی کو انٹرویو میں ایرانی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی کا کہنا ہے کہ گروسی ایران کے دشمنوں کے ایجنٹ اور ان کے احکامات پر عمل کرنے والے بن چکے ہیں۔ محمد اسلامی نے کہا کہ اس طرح کا طرزِ عمل بین الاقوامی اداروں کے اختیارات کا غلط استعمال ہے، جس سے ان اداروں کی ساکھ اور قانونی حیثیت متاثر ہوتی ہے۔ ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ اس صورتحال سے اقوام متحدہ کے چارٹر اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے یعنی این پی ٹی کی کمزوریاں بھی سامنے آتی ہیں۔ ایران کی جانب سے این پی ٹی معاہدے سے علیحدگی کے امکان پر بات کرتے ہوئے محمد اسلامی نے کہا کہ یہ ایک بڑا اسٹریٹجک فیصلہ ہے، جس کا اختیار ایران کی خودمختاری میں شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تہران اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ قومی سلامتی، ملکی مفادات اور وسیع تر اسٹریٹجک پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کرے گا۔ محمد اسلامی نے امریکی صدر کی جانب سے پِک ایکس ماؤنٹین اور دیگر مقامات پر حملوں کی بار بار دھمکیوں کو امریکی مایوسی کا واضح ثبوت بھی قرار دیا۔


































