تہران: ایرانی عدلیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی عدالتیں امریکا کے خلاف تقریباً 300 ارب ڈالر مالیت کے فیصلے جاری کرچکی ہیں، جن میں سے بعض پر عمل درآمد کرتے ہوئے امریکی اثاثے ضبط کرکے فروخت بھی کیے جا چکے ہیں۔ حسن عبدلیان پور نے شیراز میں حضرت احمد بن موسیٰ کے مزار پر منعقدہ تقریب سے خطاب میں کہا کہ ان اقدامات کے آغاز سے قبل امریکی عدالتوں کی جانب سے ایران کے خلاف جاری کیے گئے عدالتی فیصلوں کی مجموعی مالیت، ایرانی عدالتوں کے امریکا کے خلاف جاری کردہ فیصلوں سے زیادہ تھی۔ تاہم تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اب ایرانی ملکی عدالتیں امریکا کے خلاف تقریباً 300 ارب ڈالر کے فیصلے جاری کر چکی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض مقدمات میں قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد امریکی بحری جہاز بھی ضبط کرکے فروخت کیے گئے ہیں، جبکہ کئی جہاز اس وقت عدالتی تحویل میں ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
عدالتی عہدیدار کے مطابق یہ فیصلے بین الاقوامی مذاکرات اور ایران کے خلاف جارحیت کے ذمہ دار فریقوں سے ہرجانے کے مطالبات کے لیے قانونی بنیاد بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ عبدلیان پور نے بتایا کہ ایران نے حالیہ قانونی کارروائیوں میں خلیجی ممالک اور اردن کو فریق بنایا ہے۔ ان کے خلاف ملکی اور بین الاقوامی عدالتوں میں شکایات دائر کی گئی ہیں اور دستاویزی شواہد کے ذریعے ان کے کردار کو ثابت کیا گیا ہے۔


































