
ایک دن میں پھلوں کی دکان پر گیا دکان پر زیادہ رش نہیں تھا۔
میں نے کیلے اور سیب کی قیمت پوچھی۔
دکاندار نے کہا:
کیلے 100 روپے درجن اور سیب 300 روپے کلو ہیں۔
میں نے کہا، سیب آدھا کلو اور کیلے ایک درجن دے دیجیے۔
ابھی میں کھڑا ہی تھا کہ ایک بوڑھی عورت دکان میں داخل ہوئی اور پوچھنے لگی:
’’بھائی صاحب! سیب کتنے روپے کلو ہیں؟‘‘
دکاندار نے فوراً جواب دیا:
’’امّاں! 100 روپے کلو!‘‘
میں نے حیرت اور ناگواری سے دکاندار کی طرف دیکھا۔
وہ میری کیفیت سمجھ گیا اس نے آنکھ سے اشارہ کیا اور مجھے خاموش رہنے کو کہا۔
بوڑھی عورت نے اطمینان کا سانس لیا اور دعائیں دیتے ہوئے بولی:
’’بھائی صاحب! اللّٰه تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ کئی دکانوں پر گئی ہوں، سب 250 یا 300 روپے کلو بتاتے ہیں ہم ان قیمتوں پر پھل کیسے خریدیں؟‘‘
دکاندار محمد بھائی نے بوڑھی عورت کو ایک کلو سیب تول کر دیے اور رخصت کر دیا۔
پھر میری طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے:
’’یہ بوڑھی عورت کچھ عرصہ پہلے ایک حادثے میں اپنے بیٹے اور بہو کو کھو چکی ہے۔ اب دو یتیم پوتے پوتیوں کے ساتھ اکیلی رہ گئی ہے۔
میں نے کئی مرتبہ چاہا کہ اسے مفت پھل دے دوں، مگر وہ اپنی عزتِ نفس کی وجہ سے راضی نہیں ہوئی۔
اسی لیے میں اپنی دکان پر پھلوں کی قیمتوں کے بورڈ نہیں لگاتا، تاکہ جب یہ عورت آئے تو قیمتیں دیکھ کر پریشان نہ ہو اور اپنے بچوں کیلئے کچھ پھل خرید سکے۔
سچ کہوں تو میں ہر ضرورت مند کی مدد کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
میں تو ہمیشہ اپنے امام زمانہ عجل اللّٰه تعالیٰ فرجہ الشریف کے ساتھ سودا کرتا ہوں!‘‘
یہ الفاظ سن کر میرا دل جیسے زمین پر آ گِرا۔
شرمندگی سے سر جھک گیا، گلے میں آنسوؤں کا ایک بھاری گولا اٹک گیا۔
دل چاہتا تھا کہ اس نیک دل پھل فروش کے ہاتھ چوم لوں۔
میں نے اپنے پھل خریدے، گاڑی میں بیٹھا اور بےاختیار پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا گاڑی چلاتے ہوئے خود سے بھی شرمندہ تھا اور اپنے امام زمانہ عجل اللّٰه تعالیٰ فرجہ الشریف کے سامنے بھی ندامت محسوس کر رہا تھا۔
دل میں بار بار ایک ہی خیال آ رہا تھا:
’’کاش! میں نے بھی اپنی زندگی کے اتنے برسوں میں اپنی آمدنی کا کچھ حصہ اپنے امام زمانہ عجل اللّٰه تعالیٰ فرجہ الشریف کے ساتھ تجارت میں لگایا ہوتا!
کاش! میں نے بھی کسی ضرورت مند کی عزتِ نفس مجروح کیے بغیر اس کی مدد کرنا سیکھا ہوتا!‘‘
یاد رکھیے! امام زمانہ عجل اللّٰه تعالیٰ فرجہ الشریف سے محبت کے دعوے کرنا آسان ہے، مگر ان کی خوشنودی کیلئے جینا اصل امتحان ہے۔
اگر واقعی امام زمانہ عجل اللّٰه تعالیٰ فرجہ الشریف کے منتظر ہیں تو کسی مجبور کی خاموش فریاد سننا سیکھیے، کسی یتیم کے چہرے پر مسکراہٹ لائیے اور کسی ضرورت مند کی عزتِ نفس بچاتے ہوئے اس کا سہارا بنیے۔
کیونکہ انتظار صرف زبان سے نہیں، کردار سے ثابت ہوتا ہے!


































