Fri Oct 23, 2026

یمن کے حوثی باغی نہیں، پاکستان جنگ کا حصہ بننے سے گریز کرے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس وفاقی حکومت عسکری قیادت کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا کے مسائل حل کرے گی، وزیراعظم مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوج کی تعداد میں خاموشی سے کمی دمام ایئرپورٹ پر حملے میں ایک شخص ہلاک، 8 زخمی خلیج فارس میں 4 جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے لیے امریکا پر مکمل انحصار نہیں کرسکتے، ٹام بیرک مدر آف آل بمز بھی ایرانی جوہری تنصیبات تباہ نہیں کر سکتا، ٹرمپ کا مقصد جھوٹی فتح کا اعلان کرنا ہے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات سعودی عرب کی شیبہ آئل فیلڈ پر حملے میں 2 افراد ہلاک نیتن یاہو اور ٹرمپ کا زوال قریب ہے، جنرل شکارچی ہماری نگرانی کے بغیر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت نہیں، امریکا کی سعودی عرب کو سخت تنبیہ جنگ چھیڑ کر دنیا میں افراتفری پھیلانے والا ملک خود کو مظلوم ظاہر نہیں کر سکتا، اسماعیل بقائی یمنی فوج کی پیشقدمی، تعز کے 11 اضلاع سے سعودی ملیشیا کو نکال دیا گیا ترکیہ، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا میں دفاعی تعاون کا سمجھوتہ دھمکیوں اور پابندیوں کے سائے میں مذاکرات ممکن نہیں، ایرانی صدر

روزانہ کی خبریں

یمن کے حوثی باغی نہیں، پاکستان جنگ کا حصہ بننے سے گریز کرے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس

اسلام آباد: سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اور مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کے حوثی باغی نہیں، بلکہ یمن کی تاریخ، سیاست اور مذہبی شناخت سے جڑی ایک اہم قوت ہیں۔ علامہ ناصر عباس نے کہا کہ یمن کی تاریخ میں زیدی سادات کی حکومت تقریباً ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک قائم رہی۔ لہٰذا یمن کی سیاسی حقیقتوں کو سمجھے بغیر انہیں محض باغی قرار دینا اور ان کی تکفیر کرنا درست طرزِ فکر نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دانش مندی، دوراندیشی اور اسلامی اخوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یمن اور سعودی عرب کی جنگ کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہیے۔ پاکستان کا کردار کسی ایک فریق کی جنگ میں شرکت نہیں، بلکہ دو مسلمان فریقوں کے درمیان صلح، جنگ بندی، مذاکرات اور پائیدار امن کے قیام کے لیے مؤثر ثالثی ہونا چاہیے۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ مسلمانوں کا خون بہانے کے بجائے خونریزی روکنا، نفرتوں کو ہوا دینے کے بجائے مفاہمت کی راہ ہموار کرنا اور امتِ مسلمہ کو تقسیم ہونے سے بچانا ہی حقیقی دانش مندی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسی کسی پالیسی سے اجتناب کرنا چاہیے جو اسے ایک مسلمان ملک کے خلاف دوسرے مسلمان ملک کی جنگ میں دھکیل دے۔ پاکستان جنگ کا فریق نہیں، امن کا علم بردار بنے، بارود کی آگ کو ہوا دینے کے بجائے مذاکرات کی شمع روشن کرے۔ یہی اسلامی اخوت، قومی مفاد اور امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفاد کا تقاضا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یمن کے معاملے کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دو ہزار پندرہ میں پارلیمنٹ نے یمن جنگ میں حصہ نہ لینے کی قرارداد منظور کی تھی اسے بھی ڈسٹ بن میں ڈال دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular