
اسلام آباد: سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اور مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کے حوثی باغی نہیں، بلکہ یمن کی تاریخ، سیاست اور مذہبی شناخت سے جڑی ایک اہم قوت ہیں۔ علامہ ناصر عباس نے کہا کہ یمن کی تاریخ میں زیدی سادات کی حکومت تقریباً ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک قائم رہی۔ لہٰذا یمن کی سیاسی حقیقتوں کو سمجھے بغیر انہیں محض باغی قرار دینا اور ان کی تکفیر کرنا درست طرزِ فکر نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دانش مندی، دوراندیشی اور اسلامی اخوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یمن اور سعودی عرب کی جنگ کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہیے۔ پاکستان کا کردار کسی ایک فریق کی جنگ میں شرکت نہیں، بلکہ دو مسلمان فریقوں کے درمیان صلح، جنگ بندی، مذاکرات اور پائیدار امن کے قیام کے لیے مؤثر ثالثی ہونا چاہیے۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ مسلمانوں کا خون بہانے کے بجائے خونریزی روکنا، نفرتوں کو ہوا دینے کے بجائے مفاہمت کی راہ ہموار کرنا اور امتِ مسلمہ کو تقسیم ہونے سے بچانا ہی حقیقی دانش مندی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسی کسی پالیسی سے اجتناب کرنا چاہیے جو اسے ایک مسلمان ملک کے خلاف دوسرے مسلمان ملک کی جنگ میں دھکیل دے۔ پاکستان جنگ کا فریق نہیں، امن کا علم بردار بنے، بارود کی آگ کو ہوا دینے کے بجائے مذاکرات کی شمع روشن کرے۔ یہی اسلامی اخوت، قومی مفاد اور امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفاد کا تقاضا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یمن کے معاملے کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دو ہزار پندرہ میں پارلیمنٹ نے یمن جنگ میں حصہ نہ لینے کی قرارداد منظور کی تھی اسے بھی ڈسٹ بن میں ڈال دیا گیا ہے۔


































