
واشنگٹن: امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نے رپورٹ دی ہے کہ ایک امریکی عہدیدار اور سینیئر فوجی اہلکار نے بتایا کہ یمنی فوج کی جانب سے جاری علاقائی خطرات اور ایران کے براہِ راست انتباہات کے پیشِ نظر امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں اپنے بعض اڈوں پر فوجیوں کی موجودگی خاموشی سے کم کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں واقع بعض امریکی سفارت خانوں نے بھی محدود سرگرمیوں کی حالت میں اپنے عملے کی تعداد میں تبدیلیاں کی ہیں، امریکی وزارتِ خارجہ نے یمنی فوج کے خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، ان رپورٹس پر ردِعمل دیتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز نے سی بی ایس سے کہا کہ امریکی فوج معمول کے مطابق اپنے اہلکاروں اور سازوسامان کی نقل و حرکت کرتی رہتی ہے تاکہ مختلف مشنز کے لیے آپریشنل تیاری کو بہتر بنایا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ آپریشنل سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہم ایسی نقل و حرکت کی تفصیلات فراہم نہیں کرتے۔ امریکی افواج خطے بھر میں امریکی اہلکاروں اور مفادات کے تحفظ کے لیے بدستور چوکس اور تیار ہیں۔

































