
ازدواجی زندگی میں ہر اختلاف کی وجہ میاں بیوی کے درمیان محبت کی کمی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اصل مسئلہ گھر سے باہر ہوتا ہے، لیکن اس کا اثر گھر کے اندر دکھائی دینے لگتا ہے۔
مالی پریشانیاں، ملازمت کا دباؤ، مستقبل کی فکریں اور رشتہ داروں کی مداخلت میاں بیوی کے درمیان تناؤ پیدا کر سکتی ہیں۔ اگر ان مسائل کو سمجھ داری سے نہ سنبھالا جائے تو محبت، اعتماد اور اپنائیت کے رشتے میں بھی تلخی پیدا ہونے لگتی ہے۔
`مثال نمبر 1`
شوہر معاشی مسائل کی وجہ سے ذہنی دباؤ میں ہے۔ گھر واپس آ کر وہ ایک معمولی بات پر بیوی سے سخت لہجے میں بات کرتا ہے۔ بیوی کو دکھ پہنچتا ہے، وہ بھی ناراضی کا اظہار کرتی ہے اور بات جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے۔
حالانکہ اصل مسئلہ مالی پریشانی تھی، لیکن اس پریشانی کا بوجھ ایک دوسرے پر ڈالنے سے دونوں کے درمیان فاصلے بڑھنے لگے۔
`مثال نمبر 2`
کسی رشتہ دار کی بات سے بیوی کو تکلیف پہنچتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ شوہر اس کے جذبات کو سمجھے اور معاملے کو مناسب انداز میں سنبھالے، لیکن شوہر یہ کہہ کر بات ٹال دیتا ہے کہ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر نہیں لینا چاہیے۔
بیوی کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے جذبات کی قدر نہیں کی جا رہی، جبکہ شوہر سمجھتا ہے کہ وہ بلاوجہ معاملہ بڑھا رہی ہے۔ یوں ایک بیرونی مسئلہ میاں بیوی کے درمیان اختلاف کا سبب بن جاتا ہے۔
` راہِ حل:`
سب سے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ دونوں کے درمیان پیدا ہونے والی تلخی کی اصل وجہ کیا ہے۔ پھر مناسب وقت پر، تنہائی میں اور احترام کے ساتھ گفتگو کریں۔
*مثلاً بیوی کہہ سکتی ہے:*
میں جانتی ہوں کہ آپ بہت سی پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن جب ان پریشانیوں کی وجہ سے ہمارے درمیان سختی پیدا ہوتی ہے تو مجھے دکھ ہوتا ہے۔ آئیے، مل کر کوئی ایسا راستہ نکالتے ہیں جس سے مسائل بھی حل ہوں اور ہمارا رشتہ بھی محفوظ رہے۔
اسی طرح شوہر بھی اپنی پریشانیوں اور جذبات کو غصے یا خاموشی کے بجائے مناسب الفاظ میں بیان کر سکتا ہے۔
رشتہ داروں کے معاملات میں بھی ضروری ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سنیں، ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کریں اور مناسب حدود قائم رکھیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر معاملے میں ایک دوسرے کی ہر بات سے اتفاق کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی عزت اور اعتماد کو برقرار رکھا جائے۔
ایک اہم بات یاد رکھیے!
زندگی میں مسائل کا آنا ناگزیر ہے، لیکن ان مسائل کے دوران ہم ایک دوسرے کے ساتھ کیسا رویّہ اختیار کرتے ہیں، یہی ہمارے رشتے کی مضبوطی کا تعین کرتا ہے۔
شریکِ حیات وہ شخص نہیں جس پر آپ اپنی پریشانیوں کا غصہ نکالیں، بلکہ وہ ساتھی ہے جس کے ساتھ مل کر آپ پریشانیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔
گھر کا سکون تب بڑھتا ہے جب میاں بیوی ایک دوسرے کے خلاف نہیں، بلکہ مسئلے کے خلاف مل کر کھڑے ہوتے ہی
اپنی فیملی اور دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں!


































