
تہران : ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔ قالیباف نے امریکا پر آبنائے ہرمز سے متعلق انتظامات کی خلاف ورزی، مسلسل حملوں کی دھمکیوں اور معاہدے کی شرائط سے انحراف کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے دباؤ اور فوجی کارروائیوں کے باعث جنگ بندی کے وعدے متاثر ہوئے ہیں۔ جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے سے خطے میں امن کی کوششوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ اور پابندیوں کے منفی اثرات سے عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر فیصلے کرنا ہوں گے۔ قالیباف نے کہا کہ ایران کی پالیسیاں ایسی ہونی چاہئیں کہ جنگ اور پابندیوں کے باعث عوام کے روزگار اور معاش پر سب سے آخر میں اثر پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی پالیسیوں میں عوام کے معاش کا تحفظ اور مسلح افواج کی ضروریات پوری کرنا اولین ترجیحات ہونی چاہئیں۔ اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ نے کہا کہ ایران کے خلاف معاشی جنگ سب سے بڑا محاذ ہے، جو فوجی، سائبراورنفسیاتی جنگ سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔


































