
تہران: ولی امر مسلمین آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ بیرونی تسلط کے وہ دن جنہیں ایران کے دشمن دوبارہ لانا چاہتے ہیں، ختم ہو چکے ہیں اور کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے یہ بات ہفتۂ دفاعِ مقدس کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہی۔ ہفتۂ دفاعِ مقدس ایران پر سابق عراقی صدر صدام حسین کی 1980 سے 1988 تک جاری رہنے والی جنگ کے آغاز کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یہ پیغام حزب اللہ کے سابق سربراہ سید حسن نصراللہ کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر بھی جاری کیا گیا۔
ولی امر مسلمین نے کہا کہ ماضی میں جنوبی ایران کے دو سمندری علاقے دشمن افواج کے لیے گویا ’’کھیل کا میدان‘‘ تھے، لیکن ایرانی جنگجوؤں اور آبنائے ہرمز کے محافظوں کے ہاتھوں پہنچنے والی کاری ضربوں کے بعد دشمن اب بحیرۂ عرب سے آگے بڑھنے کی جرأت نہیں کرتے۔ان کا کہنا تھا کہ جب بھی دشمن نے ایسا خطرہ مول لیا، اسے خود نقصان اٹھانا پڑا، اور وہ دن دور نہیں جب بحیرۂ عرب بھی ان کی موجودگی سے پاک ہو جائا ہے. آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ دفاعِ مقدس کے زمانے میں انقلابِ اسلامی کی روشنی نے ایران بھر میں قومی یکجہتی اور اسلامی انقلاب کے راستے سے وفاداری کے احساس کو فروغ دیا، جس نے تسلط اور نوآبادیات کی پرانی اور نئی شکلوں کی برف پگھلانا شروع کر دی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کے دن تاریک تھے، جب بڑی طاقتوں کے سفیر ایرانی بادشاہ تک اپنے احکامات پہنچاتے تھے اور وہ انہیں اپنی مرضی سے یا مجبوراً نافذ کرتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے دشمن چاہتے ہیں کہ ملک کو پسماندگی، ذلت، انحصار اور اسلامی دنیا میں بدنامی کے دور میں واپس لے جایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس موجودہ دور ترقی، وقار، آزادی اور اسلامی دنیا سمیت پوری دنیا میں ایران کے بلند مقام کا دور ہے۔ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ آج بعض لوگ ایران کو دنیا کی چوتھی سپر پاور قرار دیتے ہیں، تاہم ان کے بقول یہ اندازہ دنیاوی پیمانوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الٰہی پیمانوں کے مطابق وہ ملک جو خود کو حضرت محمد ﷺ کے اہلِ بیت سے وابستہ سمجھتا ہے، جس کے عوام ان عظیم ہستیوں سے عقیدت رکھتے ہیں اور حق کے دفاع میں خوف محسوس نہیں کرتے، دنیا کی پہلی طاقت شمار ہوتا ہے۔ 1953 کی برطانوی اور امریکی پشت پناہی سے ہونے والی بغاوت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وہ دور گزر چکا ہے جب نوآبادیاتی طاقتیں نفسیاتی کارروائیاں کرتیں، خوف کی فضا پیدا کرتیں اور ایران کے وسائل لوٹتی تھیں. انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات ماہ سے ملک بھر میں عوام کی بڑی تعداد اسلامی قوتوں کے حوصلے بلند کرنے کے لیے رات کے اجتماعات میں شریک ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق 3 کروڑ سے زیادہ ایرانیوں نے قربانی دینے کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کی، جبکہ بعد میں ایک متحرک کرنے کی مہم کے دوران صرف پہلے 100 منٹ میں 5 لاکھ سے زیادہ افراد نے اپنی شرکت کے لیے مطلوبہ گنجائش پوری کردی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف قومیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے ایرانی آج دفاع کے لیے تیار ہیں، بالخصوص آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے۔
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اسلامی انقلاب کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی اور شہید آیت اللہ خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے موجودہ وقار میں ان کی قیادت کا بڑا کردار ہے۔ ان کی میراث کی بدولت ایران کے آنے والے دن موجودہ دور سے بھی زیادہ شاندار ہوں گے۔ اپنے پیغام میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے حزب اللہ کے سابق سربراہ سید حسن نصر اللہ کو ان کی شہادت کی دوسری برسی پر خراجِ عقیدت پیش کیا اور انہیں ایک بہادر عرب شخصیت اور مزاحمتی محاذ کی عظیم علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید نصر اللہ اپنے عوام اور اپنے مقصد کے مخلص خیرخواہ تھے۔ ان کی پُراثر تقاریر اور بہادرانہ اقدامات نے لبنانی عوام اور دنیا بھر میں آزادی کے متلاشی افراد کے حوصلے بلند کیے۔ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ سید حسن نصر اللہ نے لبنان کے نام اور مقام کو بلند کیا، جسے برسوں سے بعض طاقتوں کے بیک یارڈ کے طور پر دیکھا جاتا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فتح اور کامیابی سید مقاومت کے مستقل ساتھی رہے، جبکہ ان کا ’’باعزت پرچم‘‘ اب حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم کے ہاتھ میں ہے، جو بہادری سے ان کے راستے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ولی امر مسلمین کے مطابق لبنان کے موجودہ دن مزاحمت کے حامیوں کے لیے نمایاں اور باعزت دن ہیں، جبکہ ان لوگوں کے لیے ذلت اور بالآخر رسوائی کے دن ہیں جنہوں نے غلبے کی طاقتوں کے جھوٹے وعدوں اور صہیونی دشمن کے مقابلے میں بدخواہوں سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید نصر اللہ، سید ہاشم صفی الدین اور موجودہ مزاحمتی جنگجوؤں کی میراث روشن ستاروں کی طرح چمکتی رہے گی، جبکہ اس کے برعکس راستہ اختیار کرنے والے لوگ جلد تاریخ کے ابتدائی صفحات میں دفن اور فراموش کر دیے جائیں گے۔

































