
سری نگر: مقبوضہ کشمیر اسمبلی نے ہندوتوا بی جے پی کی شدید مخالفت کے باوجود مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد منظور کرلی۔ کسی رکن نے مخالفت میں ووٹ نہیں دیا۔ بی جے پی ارکان واک آؤٹ کرگئے۔
وزیر اعلی عمر عبد اللہ کی جانب سے پچیس ستمبر کو پیش کی گئی قرارداد پر بحث کے دوران بی جے پی ارکان نے شدید اعتراض کیا۔ بی جے پی ارکان کی جانب سے نعرے بازی کی گئی۔ ارکان نے قرارداد کی نقول پھاڑ دیں۔ جس کے بعد اسمبلی میں کشمیر کے حق میں نعرے لگائے گئے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام سے ریاستی حیثیت بحال کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن دو سال گزرنے کے باوجود اس وعدے پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے مرکزی حکومت جس مناسب وقت کا انتظار کررہی ہے، وہ آخر کب آئے گا۔ قرارداد اب مرکزی حکومت کو بھیجی جائے گی، جبکہ ریاستی حیثیت کی بحالی پر نئی دہلی اور مقامی سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہے.

































