Tue Oct 20, 2026

امریکی و اسرائیلی حملے کھلی جارحیت، اسلام آباد مفاہمت بحال کی جائے: چینی وزیراعظم فلسطینی نژاد طالبعلم محمود خلیل کا امریکی سپریم کورٹ سے رجوع محسن نقوی کی قطری ہم منصب سے ملاقات، سکیورٹی پارٹنر شپ بڑھانے پر اتفاق فرانس میں بدترین ہنگامے: صدر ایمانوئل کی حکومت شدید سیاسی بحران سے دوچار حوثیوں کے حملے: سعودیہ اور امارات کا قریبی روابط اور مشترکہ تعاون بڑھانے پر زور سینیٹ ارکان کو لائف ٹائم بلیو پاسپورٹ دینے کا بل منظور متحدہ عرب امارات اور فرانس کا سمندری سلامتی کیلئے تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق امریکی کارروائی کے نتیجے میں دنیا کو توانائی کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، پاسداران انقلاب روس ایران کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرے گا، روسی وزیر خارجہ مشرقی وسطیٰ میں امریکی شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت قطر کا نئی علاقائی دفاعی شراکت داری کا اعلان یمن کے صوبے شبوہ میں فوجی کیمپ پر حملہ، سعودی نواز ملیشیا کے 53 افراد ہلاک، 200 زخمی ایرانی تنصیبات پر حملہ ہوا تو 9 ممالک کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے، مشیر ولی امر مسلمین یورپ پرتشدد مظاہروں کی لپیٹ میں آگیا، فرانس، اٹلی، البانیہ، پرتگال میں جلاؤ گھیراؤ آبنائے ہرمز میں ایک اور جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا

روزانہ کی خبریں

مسلمان امامِ زمانؑ کی قدر کیوں نہ کر سکے؟

مرحوم علامہ محمدتقی مصباح یزدیؒ

امتِ مسلمہ کی کوتاہی، بے وفائی اور نا قدری کے باعث ہم امامِ زمانہؑ کی ظاہری موجودگی سے محروم ہوئے، جیسا کہ خواجہ نصیرالدین طوسیؒ نے فرمایا: «وَ غَیبَتُهُ مِنّا»۔

امتِ اسلامی اپنی نااہلی اور کمزوریوں کے باعث اس عظیم نعمت سے محروم ہوئی۔

مسلمانوں نے ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا، اس میں بے وفائی، کم ہمتی اور قدر نہ پہچاننے جیسے عناصر شامل تھے، اور یہی اس محرومی کا سبب بنے۔ ممکن ہے کہ ہم خود بھی کسی نہ کسی درجے میں ان کوتاہیوں میں شریک ہوں، اسی لیے ہمیں امامِ عصرؑ کی ظاہری موجودگی کا شرف حاصل نہیں۔

مرحوم خواجہ نصیرالدین طوسیؒ کے قول «وَ غَیبَتُهُ مِنّا» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امامؑ کی غیبت ہم پر کسی بیرونی ظلم کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ ہماری اپنی کمزوریوں اور اعمال کا انجام ہے۔ امت نے ائمہؑ کی قدر نہ کی، ان کی نصرت میں ثابت قدمی نہ دکھائی، جس کے باعث وہ اس سزا کی مستحق ٹھہری کہ امامؑ کی براہِ راست رہنمائی سے محروم ہو جائے۔

آج بھی ایسے افراد موجود ہیں جو خلوصِ دل کے ساتھ امامِ زمانہؑ کی حکومت کے منتظر ہیں، جو دن اور رات امامؑ کی یاد کے بغیر نہیں گزارتے اور اپنی زندگی کو اسی انتظار کے ساتھ جوڑے ہوئے ہیں۔

حقیقی انتظار صرف زبانی دعویٰ نہیں، بلکہ عملی وفاداری، اصلاحِ نفس اور دینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا نام ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular