
مرحوم علامہ محمدتقی مصباح یزدیؒ
امتِ مسلمہ کی کوتاہی، بے وفائی اور نا قدری کے باعث ہم امامِ زمانہؑ کی ظاہری موجودگی سے محروم ہوئے، جیسا کہ خواجہ نصیرالدین طوسیؒ نے فرمایا: «وَ غَیبَتُهُ مِنّا»۔
امتِ اسلامی اپنی نااہلی اور کمزوریوں کے باعث اس عظیم نعمت سے محروم ہوئی۔
مسلمانوں نے ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا، اس میں بے وفائی، کم ہمتی اور قدر نہ پہچاننے جیسے عناصر شامل تھے، اور یہی اس محرومی کا سبب بنے۔ ممکن ہے کہ ہم خود بھی کسی نہ کسی درجے میں ان کوتاہیوں میں شریک ہوں، اسی لیے ہمیں امامِ عصرؑ کی ظاہری موجودگی کا شرف حاصل نہیں۔
مرحوم خواجہ نصیرالدین طوسیؒ کے قول «وَ غَیبَتُهُ مِنّا» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امامؑ کی غیبت ہم پر کسی بیرونی ظلم کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ ہماری اپنی کمزوریوں اور اعمال کا انجام ہے۔ امت نے ائمہؑ کی قدر نہ کی، ان کی نصرت میں ثابت قدمی نہ دکھائی، جس کے باعث وہ اس سزا کی مستحق ٹھہری کہ امامؑ کی براہِ راست رہنمائی سے محروم ہو جائے۔
آج بھی ایسے افراد موجود ہیں جو خلوصِ دل کے ساتھ امامِ زمانہؑ کی حکومت کے منتظر ہیں، جو دن اور رات امامؑ کی یاد کے بغیر نہیں گزارتے اور اپنی زندگی کو اسی انتظار کے ساتھ جوڑے ہوئے ہیں۔
حقیقی انتظار صرف زبانی دعویٰ نہیں، بلکہ عملی وفاداری، اصلاحِ نفس اور دینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا نام ہے۔


































