
دوحہ : قطر نے علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر ایک نئی علاقائی دفاعی شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ دوحہ میں گلوبل سکیورٹی فورم سے خطاب میں قطر کے ڈپٹی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ قطر خلیج تعاون کونسل ممالک کے درمیان شراکت داری کو اہمیت دیتا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ قطر نے حال ہی میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کا جائزہ لیا ہے جس میں فضائی دفاعی نظام، انسدادِ ڈرون اقدامات اور آبی تحفظ کو ترجیح دی گئی ہے۔
قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق قطر کے ڈپٹی وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایران جنگ کے دوران 90 فیصد سے زیادہ حملوں کو مشترکہ مہارت اور کئی دہائیوں کی فوجی سرمایہ کاری کے ذریعے روک دیا گیا۔ ایران کے ساتھ تعلقات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے شیخ مسعود نے کہا کہ حملے شروع ہونے سے پہلے قطر اور ایران کے درمیان اعتماد پر مبنی تعلقات تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ گذشتہ جون تک ہمارا ایران کے ساتھ کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔ قطر کے راس لفان گیس تنصیب پر ایران کے حملے کے بارے میں پوچھے جانے پر شیخ سعود نے کہا کہ دوحہ اس حملے پر’حیران‘ تھا اور اس کے بعد تہران کے ساتھ بات چیت ہوئی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہم کبھی بھی رابطہ منقطع نہیں کرتے۔ اختلافات کے باوجود قطر مختلف سطحوں پر ایران کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریق ایک ’مشترکہ مفاہمت‘ تک پہنچ گئے ہیں۔


































