Sun Oct 18, 2026

فرانس میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر پُرتشدد احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، سینکڑوں گرفتاریاں یمنی فوج نے سعودی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا، 2 ارکان ہلاک فلسطینیوں کے قتل عام پر خاموش، مصری صدر یمن میں کارروائی کیلئے تیار خطے میں امن کے لیے تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ ضروری ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ امریکی بحریہ کا پاکستانی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائی کا دعویٰ بے بنیاد ہے، وزارت اطلاعات پاکستان نے گبد ریمدان بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں معطل کردیں ایران کا انصار اللہ اور سعودی عرب میں ثالثی کی پیشکش کا اعادہ بی بی زینبؑ کا کردار، صبر، بہادری اور ثابت قدمی خواتین کیلئے مشعلِ راہ ہے، ولی امر مسلمین اسرائیل مغربی کنارے میں صیہونی بستیوں کا جبری قیام روکے، چینی وزیرخارجہ امریکا کو ایران کے خلاف کیے گئے مظالم پر سزا ملنی چاہیے، قالیباف یمنی فوج نے سعودی عرب کا جاسوسی اور جنگی ڈرون مار گرایا احمد الشرع کو دھمکی دیکر شام میں دروز برادری کا قتل رکوایا، نیتن یاہو یمن سے مکہ یا مدینہ پر حملے کا دعویٰ جھوٹ ہے، انصار اللہ ایران کی سخت دھمکی، دشمن کے مفادات اور اثاثے بھی نشانے پر ہوں گے امریکی فوج کے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے نئے منصوبے تیار

روزانہ کی خبریں

فرانس میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر پُرتشدد احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، سینکڑوں گرفتاریاں

پیرس : فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں، تعلیمی اداروں کی خراب صورتِ حال اور عوامی خدمات میں کمی کے خلاف ملک گیر احتجاج نے پُرتشدد صورت اختیار کرلی ہے۔ پیرس سمیت متعدد شہروں میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن استعمال کیے، جبکہ بعض مقامات پر گاڑیوں، دکانوں اور سرکاری عمارتوں کو آگ لگانے، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے ہیں۔
خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق، مظاہروں میں طلبہ، اساتذہ، مزدور تنظیموں، کسانوں اور 2018 کی ’’یلو ویسٹ‘‘ تحریک سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ مظاہروں میں شریک افراد نے حکومت سے مہنگائی پر قابو پانے، اجرتوں اور پینشن میں اضافہ کرنے اور تعلیم سمیت بنیادی عوامی خدمات کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔ فرانسیسی ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق احتجاج میں شریک افراد کی تعداد کے بارے میں مختلف اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ فرانسیسی وزارتِ داخلہ نے تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار مظاہرین کی شرکت بتائی، جبکہ منتظمین نے یہ تعداد تقریباً 8 لاکھ قرار دی۔
ملک بھر میں درجنوں شہروں میں ریلیاں اور احتجاجی سرگرمیاں منعقد ہوئیں گزشتہ رات تک وزیراعظم سیباستیاں لیکورنو نے تقریباً 1,200 افراد کی گرفتاری اور 150 پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔ پیرس کے مشہور مقام پلاس دے لا ریپبلک (Place de la République) پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ بعض نقاب پوش مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر پتھر، آتش بازی کا سامان اور دیگر اشیا پھینکیں، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن استعمال کیے۔
پیرس کے بعض علاقوں میں گاڑیوں اور دیگر اشیا کو آگ لگائی گئی، جبکہ متعدد دکانوں اور تجارتی مراکز میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بعض مقامات پر بینکوں اور مہنگے برانڈز کی دکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کی کارروائی کے باعث متاثرہ علاقوں میں دھویں اور آنسو گیس کے بادل پھیل گئے اور شہریوں کو اپنے گھروں اور عمارتوں کے دروازے اور کھڑکیاں بند کرنا پڑیں۔
فرانس کے شہر لیوموژ (Limoges) میں مظاہروں کے دوران تاریخی سٹی ہال میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔ مقامی حکام کے مطابق، عمارت کی چھت کا ایک بڑا حصہ منہدم ہوگیا اور تاریخی عمارت کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا۔ جنوبی شہر مارسیلے میں مظاہرین نے سٹی ہال میں داخل ہونے کی کوشش کی اور کچھ دیر کے لیے عمارت کی لابی تک پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق، شہر میں بعض دکانوں اور پولیس کی ایک عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔ شہر لیون میں سیاحتی دفتر میں آگ لگنے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔
موجودہ احتجاج کا آغاز گزشتہ ماہ پیرس کے شمالی مضافاتی علاقوں کے بعض ہائی اسکولوں میں تعلیمی سہولتوں کی کمی، اساتذہ کی عدم دستیابی اور خستہ حال عمارتوں کے خلاف طلبہ کی سرگرمیوں سے ہوا تھا۔ بعدازاں یہ تحریک بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی بلند قیمتوں، معاشی عدم مساوات اور عوامی خدمات میں کمی کے خلاف ملک گیر احتجاج میں تبدیل ہوگئی۔ فرانس کی بڑی مزدور تنظیموں میں شامل جنرل کنفیڈریشن آف لیبر (CGT) نے بھی مظاہروں کی حمایت کی۔ تنظیم اور احتجاج میں شریک دیگر حلقوں نے اجرتوں اور پنشن میں اضافے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی اور تعلیم و صحت سمیت عوامی خدمات کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔احتجاج میں 2018 کی یلو ویسٹ تحریک سے وابستہ افراد کی شرکت کو بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔ یہ تحریک ابتدا میں ایندھن کی قیمتوں اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف شروع ہوئی تھی اور بعد میں وسیع تر معاشی و سماجی شکایات کی علامت بن گئی تھی
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے مظاہروں سے قبل عوام سے پُرامن رہنے اور لوگوں و املاک کا احترام کرنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے احتجاج کے آئینی حق کی حمایت کرتے ہوئے توڑ پھوڑ اور تشدد کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

مزید پڑھیے

Most Popular