
بغداد : ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران سعودی عرب اور یمنی انصار اللہ (حوثیوں) کے درمیان تنازع کے حل کے لیے ایک جامع اور ہمہ گیر سیاسی عمل کی حمایت کرتا ہے، جسے وہ مسئلے کے حل کا واحد قابلِ عمل اور پائیدار راستہ سمجھتے ہیں۔ بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ 12 سالہ تنازعے کے تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ یمن کے بحران کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور پائیدار امن صرف سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انھوں نے اجلاس کے موقع پر مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے بھی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ خطے اور دنیا کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جھڑپوں کے خاتمے کے لیے تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے بقول، یمن میں امن کے قیام کے لیے مذاکرات اور سیاسی مفاہمت ناگزیر ہیں۔ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز میں سلامتی کی صورتحال پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسے ایران پر 30 مارچ سے ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کا ’براہِ راست نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ہمیشہ کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کے لیے پرعزم رہا ہے، تاہم امریکہ نے متعدد مواقع پر معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔


































