
ذاتِ اقدسِ الٰہی نے جتنی بھی علوم و معارفِ نبوی اپنے محبوب ترین بندے ﷺ کو عطا فرمائیں،
ان سب کے درمیان آپ ﷺ کے اخلاقِ عظیم کو محور اور مرکز قرار دیا،
اور خود قرآنِ کریم نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا:
"إِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ”
"اور بیشک آپ ﷺ عظیم ترین اخلاق کے مالک ہیں۔”(سورۃ القلم، آیت ۴)
یہ آیت اس حقیقت کی غماز ہے کہ اخلاق، نبوت کا تاج اور رسالت کا روح ہے۔
معاشرے کی تدبیر، بقاء اور ترقی اخلاق کے دوشِ دوش ہے!
معاشرہ آپ کے اخلاق اور رفتارِ عملی سے ہی اپنا راستہ پاتا ہے، نہ کہ صرف آپ کے نظریات سے۔
کیا عوام الناس کو ان تمام علومِ نبوی کا پورا ادراک تھا جو رسول اللہ ﷺ کے سینۂ مبارک میں محفوظ تھیں؟
قطعاً نہیں!
لیکن لوگ آپ ﷺ کی عملی سیرت، اخلاقی رفتار اور انسانی کردار سے ضرور فیضیاب ہوتے تھے۔
یہی تو اخلاق کا کیمیائی اثر ہے کہ وہ علوم کو عملی زندگی میں تبدیل کر دیتا ہے۔
اخلاق ہی وہ جوہر ہے جو حوزۂ علمیہ کو وزین، متین، باوقار اور پائیدار بناتا ہے۔
اور جب حوزہ وزین ہو گا، تبھی وہ نظامِ اسلامی، معاشرے اور امت کی حفاظت و بقاء کو یقینی بنا سکے گا۔
اخلاق کے بغیر:
· علم بے اثر ہے،
· حوزہ بے وقار ہے،
· نظام بے بنیاد ہے،
· اور معاشرہ بے راہ ہے۔
حکیم فرزانہ و عارف کامل حضرت آیت اللہ العظمیٰ حاج شیخ عبد اللہ جوادی آملی دام ظلہٗ العالی


































