
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ عالمی استکبار کا بدنیت نیٹ ورک آزاد اور مزاحمت کار قوموں، خصوصاً ایران، پر ظلم اور تکالیف مسلط کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا۔ جس میں طبی علاج اور ادویات تک رسائی پر پابندیاں عائد کرنا بھی شامل ہے۔ نواسی رسول(ص) حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت کی مناسبت سے منائے جانیوالے یوم نرس کے موقع پر اپنے پیغام میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ حضرت زینبؑ کی زندگی، خصوصاً واقعۂ عاشورا میں ان کا کردار، ہمدردی، صبر، بہادری اور ثابت قدمی کی علامت ہے۔ یہ اوصاف آج بھی ایرانی خواتین اور لڑکیوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے اسلامی انقلاب کی تاریخ ابتدا ہی سے ایرانی خواتین اور لڑکیوں کی ایسی مثالوں سے بھری ہوئی ہے، جنہوں نے حضرت زینبؑ کے کردار سے تحریک حاصل کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حضرت زینبؑ سے متاثر ایرانی خواتین اب مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ شہروں اور دیہات کے عوامی اجتماعات میں وہ پیش پیش ہیں، جنگ کے حقائق واضح کر رہی ہیں اور محاذ کے پیچھے مزاحمت کا عملی مظاہرہ کر رہی ہیں۔ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے مطابق موجودہ طاقتیں، جو ایرانی قوم کو تکلیف، اذیت اور جبر کا نشانہ بنانا چاہتی ہیں خواتین کی اس وسیع عوامی شرکت کا مقابلہ کرنے کی خود کو اہل نہیں پاتیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت زینبؑ کے یومِ ولادت کو ایران میں یومِ نرس قرار دینا بجا ہے، کیونکہ آپؑ مصیبت زدہ افراد کے لیے شفقت، تکلیف میں مبتلا لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور ان کی خدمت میں ایثار کی علامت تھیں۔ ان کے بقول، یہ اخلاقی خوبیاں اور انسانی اقدار نرسنگ کے محنتی اور قابلِ قدر شعبے میں بھی نمایاں ہیں۔ عالمی استکبار کے مذموم نیٹ ورک کا ذکر کرتے ہوئے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے نرسوں کی حمایت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ طبی علاج اور ادویات پر مختلف پابندیاں عائد کرنا بھی ایرانی عوام کو تکلیف پہنچانے کے لیے استعمال کیے جانے والے طریقوں میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نرسنگ کے شعبے کو مضبوط بنانا اور نرسوں کے علم، مہارت، صلاحیتوں، حوصلے، جذبے اور وقار کو برقرار رکھنے کے ساتھ مزید بہتر بنانا معاشرے کی جسمانی اور نفسیاتی صحت اور سلامتی کے لیے اہم ہے، خصوصاً ان نرسوں کے لیے جو سرکاری اور غیر نجی اداروں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے صحت کے شعبے کے حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے وابستگی کو عملی شکل دیتے ہوئے ان ترجیحات کو اپنے کام کا مرکزی حصہ بنائیں۔


































