
اوٹاوا: کینیڈا کے صوبے البرٹا میں واقع فوجی اڈے کینیڈین فورسز بیس وین رائٹ میں ایک سنگین واقعے کے بعد بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
کینیڈا کے وزیرِ دفاع ڈیوڈ میک گنٹی نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق کردی ہے، تاہم حکام نے تاحال متاثرین کی حتمی تعداد اور آتشزدگی کی وجہ ظاہر نہیں کی۔ وزیرِ دفاع کے مطابق صورتِ حال بدستور حساس ہے اور متعلقہ ادارے واقعے کی تحقیقات کے ساتھ ہنگامی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق آگ گزشتہ روز فوجی اڈے کے ایک تربیتی علاقے میں لگی۔ رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کو مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً چار بجے کے بعد آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی۔ آگ نے تیزی سے پھیلتے ہوئے فوجی اڈے کی حدود عبور کرلیں اور قریبی دیہی علاقے تک پہنچ گئی۔ حکام کے مطابق تیز ہواؤں نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنادیا، جس کے باعث فائر فائٹرز کو آگ پر قابو پانے میں مشکلات پیش آئیں۔
اے پی کی رپورٹ کے مطابق وین رائٹ کے مقامی طبی مراکز پر زخمیوں کی بڑی تعداد آنے کے باعث دباؤ بڑھ گیا، جبکہ بعض زخمیوں کو تقریباً 180 کلومیٹر دور ایڈمنٹن کے اسپتالوں میں بھی منتقل کیا گیا۔ ایڈمنٹن کے رائل الیگزینڈرا اسپتال کے ایمرجنسی شعبے سے وابستہ ڈاکٹر وارن تھرِسک نے صورتِ حال کو غیر معمولی پیمانے کی طبی ہنگامی صورتِ حال قرار دیا۔ ان کے مطابق زخمیوں کی آمد نے طبی سہولتوں پر غیرمعمولی دباؤ ڈالا۔ تاہم، دستیاب رپورٹ میں زخمیوں کی مصدقہ مجموعی تعداد درج نہیں کی گئی۔ البرٹا میں تیز ہواؤں کے باعث آگ کے پھیلاؤ نے فوجی اڈے کے آس پاس کے علاقوں کو بھی متاثر کیا۔ اے پی کے مطابق، صوبے کے بعض حصوں میں ہواؤں کے جھکڑ تقریباً 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ رہے تھے۔ وزیراعظم نے فوجی اڈے پر پیش آنے والے واقعے کو سنگین قرار دیتے ہوئے متاثرہ فوجی اہلکاروں اور دیگر افراد کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت البرٹا کی صوبائی حکومت اور مقامی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔


































