
واشنگٹن: فلسطینی نژاد سماجی کارکن اور کولمبیا یونیورسٹی کے سابق طالب علم محمود خلیل نے دوبارہ گرفتاری اور ملک بدری سے بچنے کے لیے امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔
محمود خلیل کے وکلا نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ وہ ماتحت عدالت کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے جس کے تحت سابقہ عدالتی حکم ختم ہونے کی صورت میں ٹرمپ انتظامیہ کے لئے انہیں دوبارہ گرفتار کرکے ملک بدر کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
امریکی اپیل کورٹ نے قرار دیا تھا کہ امیگریشن قانون کے تحت ضلعی عدالت کو خلیل کی حراست سے رہائی کا حکم دینے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔
محمود خلیل کو مارچ 2025 میں فلسطین کے حق میں مظاہروں میں سرگرم کردار کے باعث گرفتار کیا گیا تھا، تاہم جون 2025 میں عدالت نے ان کی رہائی کا حکم دیا۔
امریکی حکومت نے ان پر کولمبیا یونیورسٹی میں مبینہ یہود مخالف احتجاج اور سرگرمیوں کے ذریعے یہودی طلبہ کے لیے ناموافق ماحول پیدا کرنے کا الزام عائد کیا، جبکہ خلیل کا مؤقف ہے کہ ان کے خلاف کارروائی آزادی اظہار کے آئینی حق کو دبانے کی کوشش ہے۔ فی الحال دوبارہ حراست میں لینے سے روکنے کا عدالتی حکم برقرار ہے، جس کا مستقبل سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط ہے۔


































