Tue Oct 20, 2026

فلسطینی نژاد طالبعلم محمود خلیل کا امریکی سپریم کورٹ سے رجوع محسن نقوی کی قطری ہم منصب سے ملاقات، سکیورٹی پارٹنر شپ بڑھانے پر اتفاق فرانس میں بدترین ہنگامے: صدر ایمانوئل کی حکومت شدید سیاسی بحران سے دوچار حوثیوں کے حملے: سعودیہ اور امارات کا قریبی روابط اور مشترکہ تعاون بڑھانے پر زور سینیٹ ارکان کو لائف ٹائم بلیو پاسپورٹ دینے کا بل منظور متحدہ عرب امارات اور فرانس کا سمندری سلامتی کیلئے تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق امریکی کارروائی کے نتیجے میں دنیا کو توانائی کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، پاسداران انقلاب روس ایران کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرے گا، روسی وزیر خارجہ مشرقی وسطیٰ میں امریکی شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت قطر کا نئی علاقائی دفاعی شراکت داری کا اعلان یمن کے صوبے شبوہ میں فوجی کیمپ پر حملہ، سعودی نواز ملیشیا کے 53 افراد ہلاک، 200 زخمی ایرانی تنصیبات پر حملہ ہوا تو 9 ممالک کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے، مشیر ولی امر مسلمین یورپ پرتشدد مظاہروں کی لپیٹ میں آگیا، فرانس، اٹلی، البانیہ، پرتگال میں جلاؤ گھیراؤ آبنائے ہرمز میں ایک اور جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا یمن پر سعودی جنگی طیاروں کے حملے، یمنی فوج کا نجران پر جوابی میزائل حملہ

روزانہ کی خبریں

فلسطینی نژاد طالبعلم محمود خلیل کا امریکی سپریم کورٹ سے رجوع

واشنگٹن: فلسطینی نژاد سماجی کارکن اور کولمبیا یونیورسٹی کے سابق طالب علم محمود خلیل نے دوبارہ گرفتاری اور ملک بدری سے بچنے کے لیے امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔
محمود خلیل کے وکلا نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ وہ ماتحت عدالت کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے جس کے تحت سابقہ عدالتی حکم ختم ہونے کی صورت میں ٹرمپ انتظامیہ کے لئے انہیں دوبارہ گرفتار کرکے ملک بدر کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
امریکی اپیل کورٹ نے قرار دیا تھا کہ امیگریشن قانون کے تحت ضلعی عدالت کو خلیل کی حراست سے رہائی کا حکم دینے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔
محمود خلیل کو مارچ 2025 میں فلسطین کے حق میں مظاہروں میں سرگرم کردار کے باعث گرفتار کیا گیا تھا، تاہم جون 2025 میں عدالت نے ان کی رہائی کا حکم دیا۔
امریکی حکومت نے ان پر کولمبیا یونیورسٹی میں مبینہ یہود مخالف احتجاج اور سرگرمیوں کے ذریعے یہودی طلبہ کے لیے ناموافق ماحول پیدا کرنے کا الزام عائد کیا، جبکہ خلیل کا مؤقف ہے کہ ان کے خلاف کارروائی آزادی اظہار کے آئینی حق کو دبانے کی کوشش ہے۔ فی الحال دوبارہ حراست میں لینے سے روکنے کا عدالتی حکم برقرار ہے، جس کا مستقبل سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular