
تہران : ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات میں کہا ہے کہ افزودہ جوہری مواد کا ایک ذرہ بھی ایران سے باہر نہیں لے جایا جائے گا۔ یہ مواد ایرانی عوام کا عظیم سرمایہ اور قومی دولت ہے، جسے ملک کے اندر استعمال کیا جائے گا۔ ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ ایران میں افزودہ کیا گیا تمام جوہری مواد ملک ہی میں رہے گا۔
میجر جنرل محسن رضائی نے واضح کیا کہ ایران کے تمام عوام اور حکام اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ جب تک امریکہ کی جانب سے اعتماد سازی نہیں کی جاتی، مذاکرات نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اعتماد سازی کا آغاز ایران کی شرائط پر عمل درآمد سے ہوگا۔ انہوں نے ایران اور پاکستان کے عوام کے درمیان برادرانہ تعلقات پر بھی زور دیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران اور پاکستان کے درمیان سرحد کھولے جانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم واضح طور پر اعلان کرتے ہیں کہ ایران اور پاکستان کی سرحدوں سے متعلق مسئلہ حل ہو چکا ہے اور آج صبح سے سرحد کھول دی گئی ہے۔ انہوں نے 40 روزہ جنگ کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی جانب سے بھرپور دفاع اور مزاحمت کا ذکر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان علاقائی تعاون پر زور دیا اور کہا کہ یہ تعاون غیر ملکیوں کی موجودگی کے بغیر ہونا چاہیے۔
پاکستان فوج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی دارالحکومت تہران میں صدر پزشکیان اور اسپیکر پارلیمان سمیت دیگر اعلی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں، جن میں ایرانی میڈیا کے مطابق خطے کی صورتحال اور پاکستان اور ایران سرحدی معاملات پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔
رواں برس 28 فروری کو ایران جنگ کے آغاز کے بعد یہ پاکستانی فیلڈ مارشل کا ایران کا چوتھا دورہ ہے جس میں وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی اُن کے ہمراہ ہیں۔ اس سے قبل فیلڈ مارشل اپریل، مئی اور اگست میں بھی ایران جا چکے ہیں۔


































