
بغداد: عراق کے پارلیمانی دھڑے بدر نے ایران کے ساتھ صوبہ میسان میں واقع الشیب سرحدی گزرگاہ کی مسلسل بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے سے مقامی آبادی کو معاشی مشکلات اور روزگار کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دھڑے نے بغداد حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرحدی گزرگاہ فوری طور پر دوبارہ کھولی جائے۔ بدر پارلیمانی دھڑے نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ صوبہ میسان میں الشیب سرحدی گزرگاہ کی مسلسل بندش کے اثرات، اس کے نتیجے میں ہونے والے معاشی نقصانات اور مقامی شہریوں کو درپیش مشکلات پر گہری تشویش کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ واضح اور فوری حل کے بغیر سرحدی گزرگاہ کی بندش جاری رہی تو مزید احتجاج اور کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔
اتوار کو درجنوں عراقی مظاہرین نے صوبہ میسان کے جنوبی علاقے میں تیل کمپنیوں کی جانب جانے والی مرکزی سڑک بند کر دی۔ مظاہرین حکومت کی جانب سے الشیب سرحدی گزرگاہ بند کیے جانے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ پارلیمانی دھڑے نے عراقی حکومت پر زور دیا کہ وہ صوبہ میسان کے رہائشیوں کے مطالبات سنجیدگی سے پورے کرے تاکہ اس فیصلے کے منفی اثرات سے بچا جا سکے، جو علاقے کے امن اور استحکام کو براہِ راست متاثر کر سکتے ہیں۔


































