Tue Oct 27, 2026

ایران کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار امن وسلامتی ممکن نہیں، عمانی وزیر خارجہ اردنی فوج کے شام میں فضائی حملے، 7 افراد جاں بحق، 3 زخمی رہبر معظم مکمل صحت مند ہیں، انہیں ملکی معاملات پر مکمل گرفت حاصل ہے، قالیباف یمن کی فوجی صلاحیتوں کو کم تر سمجھنا مخالفین کے لیے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے، انصار اللہ طاقتور ایران، سائنسی و تکنیکی طاقت کی بنیاد پر مضبوطی سے کھڑا ہے: ولی امر مسلمین ایران مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، سلامتی اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے تعاون پر تیار ہے، پزشکیان تہران : 4 ملکی اجلاس کا امن و سلامتی کے فروغ کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ایران نے جارحیت کی صورت میں ممکنہ اہداف واضح کردئے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تیاری مکمل ’بحری قزاق‘ کون ہے؟ اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کے بیان سے روبیو کو جواب دیدیا امریکا مخالف لولا دی سلوا چوتھی بار برازیل کے صدر منتخب لانا نسیبہ اقوامِ متحدہ کا سربراہ بننے کی کوشش سے گریٹر اسرائیل منصوبہ آگے بڑھا رہی ہیں، قالیباف پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام آج ایرانی قیادت سے ملیں گے فرانس میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے، جھڑپوں کے بعد سینکڑوں مظاہرین گرفتار ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے، آبنائے ہرمز پر ایران کو ویٹو پاور حاصل ہے، اوباما کا اعتراف

روزانہ کی خبریں

ایران کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار امن وسلامتی ممکن نہیں، عمانی وزیر خارجہ

لندن : عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کا کہنا ہے کہ ایران کی شرکت کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار سلامتی ممکن نہیں اور خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کی ذمہ داری خود سنبھالنی چاہیے۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمبرج میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ گذشتہ نصف صدی کے دوران علاقائی سلامتی کے انتظامات سے ایران کو باہر رکھنے کے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ عمانی وزیر خارجہ کے مطابق خلیج فارس کے ممالک کا طویل عرصے تک بیرونی طاقتوں پر انحصار، جس میں فوجی دستوں کی تعیناتی، بحری بیڑوں، فضائی دفاعی نظاموں اور انٹیلی جنس تعاون کا سہارا لینا شامل ہے، بھاری سیاسی قیمت کا باعث بنا ہے۔
البوسعیدی نے زور دے کر کہا کہ ان کے خیال میں خطے میں موجود بیرونی طاقتوں کی ترجیحات اور قومی مفادات ہمیشہ خطے کے ممالک اور ان کے عوام کے مشترکہ مفادات سے ہم آہنگ نہیں رہے۔ ان کے مطابق بیرونی طاقتوں کی موجودگی نے انحصار کو بڑھایا اور باہمی بداعتمادی کو بھی گہرا کیا۔ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے البوسعیدی نے کہا کہ بیرونی طاقتوں کی مداخلت نے ان مسائل کے حل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انھوں نے خلیج تعاون کونسل کے تمام چھ رکن ممالک اور ایران اور عراق کی شمولیت سے ایک جامع فریم ورک کے قیام پر زور دیا اور تجویز دی کہ یہ ممالک باہمی عدم جارحیت کے معاہدے کی جانب پیش رفت کریں۔

مزید پڑھیے

Most Popular