
لندن : عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کا کہنا ہے کہ ایران کی شرکت کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار سلامتی ممکن نہیں اور خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کی ذمہ داری خود سنبھالنی چاہیے۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمبرج میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ گذشتہ نصف صدی کے دوران علاقائی سلامتی کے انتظامات سے ایران کو باہر رکھنے کے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ عمانی وزیر خارجہ کے مطابق خلیج فارس کے ممالک کا طویل عرصے تک بیرونی طاقتوں پر انحصار، جس میں فوجی دستوں کی تعیناتی، بحری بیڑوں، فضائی دفاعی نظاموں اور انٹیلی جنس تعاون کا سہارا لینا شامل ہے، بھاری سیاسی قیمت کا باعث بنا ہے۔
البوسعیدی نے زور دے کر کہا کہ ان کے خیال میں خطے میں موجود بیرونی طاقتوں کی ترجیحات اور قومی مفادات ہمیشہ خطے کے ممالک اور ان کے عوام کے مشترکہ مفادات سے ہم آہنگ نہیں رہے۔ ان کے مطابق بیرونی طاقتوں کی موجودگی نے انحصار کو بڑھایا اور باہمی بداعتمادی کو بھی گہرا کیا۔ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے البوسعیدی نے کہا کہ بیرونی طاقتوں کی مداخلت نے ان مسائل کے حل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انھوں نے خلیج تعاون کونسل کے تمام چھ رکن ممالک اور ایران اور عراق کی شمولیت سے ایک جامع فریم ورک کے قیام پر زور دیا اور تجویز دی کہ یہ ممالک باہمی عدم جارحیت کے معاہدے کی جانب پیش رفت کریں۔


































