Tue Oct 27, 2026

ایران مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، سلامتی اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے تعاون پر تیار ہے، پزشکیان تہران : 4 ملکی اجلاس کا امن و سلامتی کے فروغ کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ایران نے جارحیت کی صورت میں ممکنہ اہداف واضح کردئے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تیاری مکمل ’بحری قزاق‘ کون ہے؟ اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کے بیان سے روبیو کو جواب دیدیا امریکا مخالف لولا دی سلوا چوتھی بار برازیل کے صدر منتخب لانا نسیبہ اقوامِ متحدہ کا سربراہ بننے کی کوشش سے گریٹر اسرائیل منصوبہ آگے بڑھا رہی ہیں، قالیباف پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام آج ایرانی قیادت سے ملیں گے فرانس میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے، جھڑپوں کے بعد سینکڑوں مظاہرین گرفتار ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے، آبنائے ہرمز پر ایران کو ویٹو پاور حاصل ہے، اوباما کا اعتراف جنگ بندی میں تمام محاذوں پر لڑائی مکمل بند ہونی ضروری ہے، عراقچی ایران نے امریکی ڈرون مار گرایا علاقائی سالمیت کے خلاف جارحانہ اقدام کا ناقابل تصور جواب دیں گے، قالیباف ٹرمپ کی اسرائیلی عوام سے نیتن یاہو کو ووٹ دینے کی اپیل ایران سے روسی سفارت کاروں اور جوہری ماہرین کے انخلا کی خبریں مسترد

روزانہ کی خبریں

ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تیاری مکمل

واشنگٹن : امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی فوج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کے بعد 96 گھنٹوں کے اندر ایران کے خلاف نئی اور ممکنہ طور پر بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی شروع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سی این این کے مطابق امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مجوزہ کارروائی محدود حملوں تک نہیں رہے گی، جن میں ایرانی ریڈار سسٹم، میزائل لانچرز اور دوبارہ تعمیر کیے جا سکنے والے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جاتا ہے، بلکہ اس کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہوسکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ اور پینٹاگون ایران کے خلاف ممکنہ اہداف کی ایک وسیع فہرست تیار کر رہے ہیں۔ اس میں ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے، فوجی تنصیبات اور جوہری مراکز سمیت اہم مقامات شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر حکم دیا گیا تو کارروائی سال کے اختتام سے پہلے ہوسکتی ہے، لیکن زیادہ امکان امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد کا بتایا گیا ہے۔ امریکی عہدیداروں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایرانی افواج اب امریکی فوجی حکمت عملیوں سے پہلے کی نسبت زیادہ واقف ہیں، جس سے تمام مطلوبہ اہداف کو تباہ کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular