
تہران : ایران نے اپنے خلاف ممکنہ جارحیت کی صورت میں جن اہداف کو نشانہ بنانے کا ذکر کیا ہے، ان میں پل، ریلوے کا نظام، ہوائی اڈے، بندرگاہیں، خلیج فارس میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز، پیٹروکیمیکل کارخانے، بجلی گھر، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں سے وابستہ کمپنیاں شامل ہیں۔ اس فہرست میں مغربی ایشیا کے مختلف مقامات پر واقع ہوٹلوں اور تجارتی مراکز کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بیان کردہ منظرنامے کے مطابق، اگر ایرانی بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو اس کے جواب میں امریکی فوجی اڈوں سمیت دیگر اہداف کو نشانہ بنائے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں خطے میں نقل و حمل، توانائی کی فراہمی، پانی کی دستیابی، مواصلاتی نظام اور تجارتی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔


































