
واشنگٹن : سابق امریکی صدر براک اوباما نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں اور ایران سے متعلق اقدامات پر کڑی تنقید کی ہے، امریکا میں بڑھتے اخراجات کی ذمہ دار ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے ہیں، براک اوباما نے کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے کیونکہ انھوں نے ایسا معاہدہ کیا تھا جس کے بارے میں سب متفق تھے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکے گا، براک اوباما نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایک غیر ضروری جنگ شروع کی، جس کا کسی نے مطالبہ نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کیا اور ایک بھی میزائل فائر نہیں کیا.
انہوں نے کہا کہ جنگ شروع کئے سات ماہ گزر چکے ہیں اور انھیں فتح کا اعلان کیے بھی چھ ماہ ہو چکے ہیں۔ تو یہ جنگ کیسی جا رہی ہے؟، براک اوباما نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈیوں تک تیل کی ترسیل اسی گزرگاہ سے ہوتی ہے اور اسکی موجودہ صورتِ حال تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ہے۔ ان کے بقول آبنائے ہرمز پر ایران کو ویٹو پاور حاصل ہے۔ سابق امریکی صدر نے زور دیا کہ وسط مدتی انتخابات صدر ٹرمپ کے اقدامات کو روکنے اور انہیں جواب دہ بنانے کا بہترین موقع ہیں۔


































