
BAGHDAD, IRAQ – OCTOBER 13: (—-EDITORIAL USE ONLY – MANDATORY CREDIT – ‘IRAQI PRIME MINISTER’S OFFICE PRESS / HANDOUT’ – NO MARKETING NO ADVERTISING CAMPAIGNS – DISTRIBUTED AS A SERVICE TO CLIENTS—-) Iraqi Prime Minister and Commander-in-Chief of the Armed Forces Ali Al-Zaidi chairs a high-level security meeting to evaluate the nation’s overall security situation and assess the operational readiness of the armed forces in Baghdad, Iraq on October 13, 2026. ( Iraqi Prime Minister’s Office Press – Anadolu Agency )
بغداد : عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی کا کہنا ہے کہ ملک سے تمام امریکی فوجی واپس جا چکے ہیں اور اب وہاں کوئی امریکی فوجی مشیر بھی موجود نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ حکومت آئندہ سال 30 جون تک تمام ہتھیار ریاستی کنٹرول میں لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ عراقی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 23 سالہ فوجی قبضے کے بعد غیر ملکی افواج کی مکمل واپسی سے حکومت کے لیے مسلح مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ الزیدی کے مطابق، حکومت کا ہدف ہے کہ 30 جون 2027 تک ملک میں تمام ہتھیار ریاستی اداروں کے کنٹرول میں ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہتھیاروں کو صرف ریاستی اداروں تک محدود رکھنے کا فیصلہ حتمی ہے اور اس پر نظرثانی نہیں کی جائے گی۔ عراقی وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت تین مسلح گروہوں کے ہتھیاروں کے معاملے پر معاہدے کر چکی ہے، جبکہ مزید چار گروہوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم بعض مسلح گروہوں نے اپنے ہتھیار حوالے کرنے یا غیر مسلح ہونے سے انکار کیا ہے۔ حرکت حزب اللہ النجباء کے عسکری نائب عبدال قادر کربلائی نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم اپنے ہتھیار کسی صورت حوالے نہیں کرے گی۔


































