Fri Oct 23, 2026

اربوں ڈالر خرچ ہوگئے جنگ سے امریکا کو کیا ملا؟ ، امریکی سینیٹرز ایران پر حملہ ہوا تو انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کی لائنیں تباہ کردیں گے، رحیم صفوی یورپ میں مظاہروں میں شدت: فرانس میں مرکزی طلبہ یونین کی ہفتہ کو احتجاجی ریلیوں کی کال غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ سے مزید 4 فلسطینی شہید یمن کے حوثی باغی نہیں، پاکستان جنگ کا حصہ بننے سے گریز کرے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس سعودی اور عراقی وزراء خارجہ کا رابطہ، سکیورٹی تعاون مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال وفاقی حکومت عسکری قیادت کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا کے مسائل حل کرے گی، وزیراعظم مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوج کی تعداد میں خاموشی سے کمی دمام ایئرپورٹ پر حملے میں ایک شخص ہلاک، 8 زخمی خلیج فارس میں 4 جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے لیے امریکا پر مکمل انحصار نہیں کرسکتے، ٹام بیرک مدر آف آل بمز بھی ایرانی جوہری تنصیبات تباہ نہیں کر سکتا، ٹرمپ کا مقصد جھوٹی فتح کا اعلان کرنا ہے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات سعودی عرب کی شیبہ آئل فیلڈ پر حملے میں 2 افراد ہلاک نیتن یاہو اور ٹرمپ کا زوال قریب ہے، جنرل شکارچی

روزانہ کی خبریں

اربوں ڈالر خرچ ہوگئے جنگ سے امریکا کو کیا ملا؟ ، امریکی سینیٹرز

واشنگٹن: امریکی سینیٹرز الزبتھ وارن اور کرس مرفی نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سینیٹر الزبتھ وارن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنگ کے دوران کم از کم 23 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ٹیکس دہندگان کے 45 ارب ڈالرز سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں، امریکی سینیٹر کا کہنا ہے کہ تنازع کو تقریباً 8 ماہ ہونے والے ہیں، تاہم کوئی یہ وضاحت نہیں کر پا رہا کہ اس جنگ سے کیا حاصل ہوا ہے اور یہ کب ختم ہو.
دوسری جانب سینیٹر کرس مرفی نے امریکی انتظامیہ کی حکمتِ عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ شروع کی، لیکن امریکی فوجیوں، سفارت کاروں اور اربوں ڈالرز مالیت کے فوجی اڈوں کے تحفظ کے لیے کوئی قابلِ عمل منصوبہ موجود نہیں تھا۔کرس مرفی نے اسے انتظامیہ کی مکمل نااہلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورتِ حال پر ہر امریکی شہری کو شدید غصہ ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیے

Most Popular