
تہران : ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہاہےکہ ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کا ایسا جواب دیں گے جس کا دشمن تصور بھی نہیں کرسکتا.
پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب میں قالیباف نے واضح کیا کہ ہمہ گیر جنگ یا قتل کی دھمکیاں ایرانی قوم کو اپنے حقوق اور مفادات سے دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کرسکتیں. قالیباف نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکہ نے اپنی غلط فہمیوں اور ایران کے خلاف بلااشتعال جنگ کے ذریعے خود کو ایک دلدل میں پھنسا لیا ہے اور اب امریکیوں کو اس دلدل سے نکلنے کے لیے ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک امریکی اپنا طرزِ عمل تبدیل نہیں کرتے ایران کی نظر میں ان کے کسی بھی دعوے کی ذرہ برابر بھی ساکھ نہیں ہوگی۔ قالیباف کے مطابق امریکہ آج کے ایران اور سابق شاہی دور کے ایران کے درمیان بنیادی فرق سمجھنے میں ناکام رہا ہے، جب واشنگٹن کی حمایت یافتہ بادشاہت کے دوران غیر ملکی طاقتیں ملک کے معاملات پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارا پیارا ایران نہ صرف مغربی اور مشرقی مشیروں کی بالادستی سے آزاد ہے بلکہ ایک خودمختار اور طاقتور علاقائی قوت بھی بن چکا ہے۔ اس قوم کی تقدیر پر متکبر طاقتوں اور صہیونی قوتوں کے دوبارہ غلبے کا امکان ہمیشہ کے لیے ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام خمینیؒ نے سابق ایرانی حکومت کے اس قانون کی مخالفت کی تھی جس کے تحت امریکی فوجی اہلکاروں اور ان سے وابستہ افراد کو ایران کی سرزمین پر قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل تھا۔ قالیباف نے یاد دلایا کہ امام خمینی نے اس قانون کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایرانی عوام کی غلامی اور ایک قدیم مسلم قوم کی آزادی و وقار کو امریکی ڈالروں کے عوض قربان کرنے کے مترادف قرار دیا تھا۔


































