
صنعا: یمن کی انصار اللہ تحریک کے سینئر عہدیدار محمد الفرح نے خبردار کیا ہے کہ یمن کی فوجی اور انٹیلی جنس صلاحیتوں کو کم تر سمجھنا مخالفین کے لیے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یمن کی عسکری صلاحیتیں اور حاصل کردہ تجربہ، مخالفین کے پیش کردہ تاثر سے کہیں زیادہ آگے بڑھ چکے ہیں۔
محمد الفرح نے اپنے بیان میں کہا کہ صنعاء کی فوجی اور انٹیلی جنس صلاحیتیں جدید ہو چکی ہیں، جبکہ یمن کے دشمن اب بھی ملک کی طاقت کو محدود انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف یمن کے جوابی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یمنی مسلح افواج کو محض ایک مسلح گروہ سمجھنا، ملک کی فوجی ترقی اور گزشتہ برسوں کے دوران حاصل کیے گئے تجربے کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ محمد الفرح کے مطابق، یہی غرور مخالفین کو یمن کی حقیقی صلاحیتوں کا درست اندازہ لگانے سے روکتا ہے، یہاں تک کہ انہیں زمینی حقائق کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ صورتِ حال کی وضاحت کے لیے متبادل جواز تلاش کرنے لگتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کی صلاحیتوں کو کم تر سمجھنے سے اس کی طاقت کم نہیں ہوتی، بلکہ ایسا کرنے والے خود غلط اندازوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور انہیں بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔


































