
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ اَلْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ اَلْحَسَنِ اَلصَّفَّارُ عَنْ عَبَّادِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ اَلدَّيْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَمَّارٍ اَلصَّيْرَفِيِّ قَالَ: كُنْتُ بِالْكُوفَةِ فَيَأْتِينِي إِخْوَانٌ كَثِيرَةٌ وَ كَرِهْتُ اَلشُّهْرَةَ فَتَخَوَّفْتُ أَنْ أَشْتَهِرَ بِدِينِي فَأَمَرْتُ غُلاَمِي كُلَّمَا جَاءَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ يَطْلُبُنِي قَالَ لَيْسَ هُوَ هَاهُنَا قَالَ فَحَجَجْتُ تِلْكَ اَلسَّنَةَ فَلَقِيتُ أَبَا عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَرَأَيْتُ مِنْهُ ثِقْلاً وَ تَغَيُّراً فِيمَا بَيْنِي وَ بَيْنَهُ قَالَ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ مَا اَلَّذِي غَيَّرَنِي عِنْدَكَ قَالَ اَلَّذِي غَيَّرَكَ لِلْمُؤْمِنِينَ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ إِنَّمَا تَخَوَّفْتُ اَلشُّهْرَةَ وَ قَدْ عَلِمَ اَللَّهُ شِدَّةَ حُبِّي لَهُمْ فَقَالَ يَا إِسْحَاقُ لاَ تَمَلَّ زِيَارَةَ إِخْوَانِكَ فَإِنَّ اَلْمُؤْمِنَ إِذَا لَقِيَ أَخَاهُ اَلْمُؤْمِنَ فَقَالَ مَرْحَباً كَتَبَ اَللَّهُ لَهُ مَرْحَباً إِلَى يَوْمِ اَلْقِيَامَةِ فَإِذَا صَافَحَهُ أَنْزَلَ اَللَّهُ فِيمَا بَيْنَ إِبْهَامَيْهِمَا مِائَةَ رَحْمَةٍ تِسْعَةً وَ تِسْعِينَ لِأَشَدِّهِمْ حُبّاً لِصَاحِبِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ اَللَّهُ عَلَيْهِمَا بِوَجْهِهِ فَكَانَ عَلَى أَشَدِّهِمَا حُبّاً لِصَاحِبِهِ أَشَدَّ إِقْبَالاً فَإِذَا تَعَانَقَا غَمَرَتْهُمَا اَلرَّحْمَةُ فَإِذَا لَبِثَا لاَ يُرِيدَانِ إِلاَّ وَجْهَهُ لاَ يُرِيدَانِ غَرَضاً مِنْ أَغْرَاضِ اَلدُّنْيَا قِيلَ لَهُمَا غَفَرَ اَللَّهُ لَكُمَا فَاسْتَأْنِفَا فَإِذَا أَقْبَلاَ عَلَى اَلْمُسَاءَلَةِ قَالَتِ اَلْمَلاَئِكَةُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ تَنَحَّوْا عَنْهُمَا فَإِنَّ لَهُمَا سِرّاً وَ قَدْ سَتَرَ اَللَّهُ عَلَيْهِمَا – قَالَ إِسْحَاقُ قُلْتُ لَهُ جُعِلْتُ فِدَاكَ لاَ يكب [يُكْتَبُ] عَلَيْنَا لَفْظُنَا فَقَدْ قَالَ اَللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ – مٰا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلاّٰ لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ قَالَ فَتَنَفَّسَ اِبْنُ رَسُولِ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ اَلصُّعَدَاءَ ثُمَّ بَكَى حَتَّى خَضَبَتْ دُمُوعُهُ لِحْيَتَهُ وَ قَالَ يَا إِسْحَاقُ إِنَّ اَللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى إِنَّمَا نَادَى اَلْمَلاَئِكَةَ أَنْ يَغِيبُوا عَنِ اَلْمُؤْمِنَيْنِ إِذَا اِلْتَقَيَا إِجْلاَلاً لَهُمَا فَإِذَا كَانَتِ اَلْمَلاَئِكَةُ لاَ تَكْتُبُ لَفْظَهُمَا وَ لاَ تَعْرِفُ كَلاَمَهُمَا فَقَدْ عَرَفَهُ اَلْحَافِظُ عَلَيْهِمَا عَالِمُ اَلسِّرِّ وَ أَخْفَى يَا إِسْحَاقُ فَخَفِ اَللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ كُنْتَ لاَ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ فَإِنْ كُنْتَ تَرَى أَنَّهُ لاَ يَرَاكَ فَقَدْ كَفَرْتَ وَ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ يَرَاكَ ثُمَّ اِسْتَتَرْتَ عَنِ اَلْمَخْلُوقِينَ بِالْمَعَاصِي وَ بَرَزْتَ لَهُ بِهَا فَقَدْ جَعَلْتَهُ فِي حَدِّ أَهْوَنِ اَلنَّاظِرِينَ إِلَيْكَ .
[اردو ترجمہ]
(۱) اسحاق بن عمار کہتے ہیں جب میں کوفہ میں تھا تو بہت سے مؤمنین مجھے ملنے آئے۔ مجھے شہرت پسند نہ تھی۔ خاص طور پر شیعہ ہونے کے لحاظ سے شہرت پسند نہ تھی۔ لہذا میں نے اپنے نوکر سے کہا جو مجھے ملنے آئے تم کہہ دینا کہ میں نہیں ہوں۔ اسی سال حج پر گیا تو حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی زیارت کیلئے گیا۔ ان کا برتاؤ پہلے کی طرح نہ تھا بلکہ آپ ناراض ہوئے۔ میں نے عرض کی آپ پر فدا جاؤں آپ کا رویّہ سخت کیوں ہے۔ فرمایا چونکہ تو مومنین کیساتھ نامناسب برتاؤ رکھتا ہے۔ میں نے کہا آپ پر قربان جاؤں میں شہرت سے خائف تھا وگرنہ خدا جانتا ہے مجھے ان سے کتنی محبت ہے ؟فرمایا اسحاق مؤمنین کی زیارت سے چہرے پر ملال نہ لایا کر۔ جب ایک مؤمن دوسرے مؤمن سے ملتے وقت مرحبا کہتا ہے تو الله تعالیٰ قیامت تک اس کے لئے مرحبا لکھ لیتا ہے۔ جب وہ مصافحہ کرتا ہے تو الله تعالیٰ ان کی انگلیوں کے درمیان ایک سور حمتیں نازل کرتا ہے ان میں ننانوے اپنے دوست سے زیادہ محبت کرنے والوں کیلئے ہیں۔ اس کی دوست سے زیادہ محبت اور توجہ کی وجہ سے الله تعالیٰ اس کی طرف رخ فرمائے گا۔ اور جب مؤمنین آپس میں گلے ملتے ہیں تو الله کی رحمت میں ڈوب جاتے ہیں اور جب یہ الله کی خاطر ، (نہ کہ دنیاوی ہدف و مقصد کی خاطر)ایک دوسرے کے پاس کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں کہا جائے گا الله نے تمھیں معاف کردیا گیا ہے لہذا اپنا عمل نئے سِرے سے شروع کرو۔ جب یہ ایک دوسرے سے احوال پرسی کرتے ہیں تو فرشتے ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ ان سے دور ہو جائیں ان کے کچھ راز ہیں جنہیں الله نے بھی چھپارکھا ہے۔ میں نے عرض کی آپ پر فدا جاؤں وہ ہماری گفتگو کیوں نہیں لکھتے جبکہ الله نے فرمایا ہے (انسان)کوئی لفظ نہیں کہتا مگر نگہبان اسکے سامنے آمادہ ہوتا ہے۔ راوی کہتا ہے کہ فرزند رسول خدا نے سرد آہ لی پھر اتنا گریہ کیا کہ ریش مبارک آنسوؤں سے بھیگ گئی۔ اور فرمایا اے اسحاق الله تعالیٰ ملائکہ کو اسلئے ندا دیتا تا کہ انہیں ملاقات کے وقت مؤمنین سے مخفی کر دے اور ملائکہ اسکی گفتگو نہیں لکھتے اور نہ ہی اسکی گفتگو سے آگاہ ہوتے ہیں انکی گفتگو کو فقط عالم سرو اخفاء کا نگہبان (خدا)ہی جانتا ہے۔ اے اسحاق خدا سے اس طرح ڈرو گو یا اسے تم دیکھ رہے ہو کیونکہ اگر تو اسے نہیں دیکھ سکتا تو وہ تو ، تمھیں قطعی طور پر دیکھ رہا ہے۔ اگر یہ خیال کرے کہ وہ تجھے نہیں دیکھتا تو ، تو کافر ہوگا اور اگر یہ عقیدہ ہے کہ الله تجھے دیکھ رہا ہے اور تم اپنے گناہوں کو دوسری مخلوق سے پنھان کرو اور الله کے سامنے آشکار کرو تو پھر تم نے اس کو انتہائی کم دیکھنے والوں میں شمار کرکیا ہے ۔
————————-
حوالہ:
کتاب: ثواب الاعمال
باب: ثواب الاعمال
عنوان: مؤمن بھائی کی زیارت ، مصافحہ اور گلے ملنے کا ثواب


































