
واشنگٹن: ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں پر امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے۔
پینٹاگون کے اعداد و شمار کے مطابق یہ رقم جولائی میں محکمہ دفاع کے تخمینے سے 25 فیصد سے زیادہ ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق اعداد و شمار میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے امریکی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کے اخراجات کا تخمینہ واضح طور پر شامل نہیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جولائی میں ایران جنگ کے اخراجات 37.5 ارب ڈالر بتائے تھے، اخراجات کا 47 ارب ڈالر سے تجاوز کرنا جنگ کے مالی بوجھ میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
ایران جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ریپبلکن پارٹی کو 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل جنگ کے سیاسی اثرات کا سامنا ہے۔ ان انتخابات سے اگلے دو برس کے لیے امریکی کانگریس میں اقتدار کا توازن طے ہو گا۔ ایران جنگ اور عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے ریپبلکن امیدواروں کی عوامی حمایت کو متاثر کیا ہے، ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں معمولی اکثریت حاصل ہے۔
اسلحہ کے ذخائر کیلئے کتنی رقم درکار ہو گی؟
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون کا تازہ تخمینہ جنگی کارروائیوں پر ہونے والے اخراجات پر مبنی ہے، جبکہ جنگ کے دوران استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر دوبارہ پورے کرنے کے لیے 29 ارب ڈالر سے زائد درکار ہوں گے۔
اس کے علاوہ فوجی سازوسامان اور جنگ کے دوران تباہ ہونے والے فوجی پلیٹ فارمز، جن میں طیارے اور بڑی تعداد میں ڈرونز بھی شامل ہیں، کی جگہ نئے آلات حاصل کرنے کے لیے 6 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہونے کا امکان ہے۔


































