
قاہرہ : اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ قاہرہ یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خطے کا کوئی بھی ملک دوسرے ملک کی قیمت پر مستقل سلامتی حاصل نہیں کر سکتا۔ گوتریس نے کہا کہ علاقائی ممالک کے درمیان مکالمہ، بین الاقوامی قانون کا احترام اور مشترکہ سلامتی نئے سکیورٹی نظام کی بنیاد ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل خطے کے عوام اور ممالک کو خود تشکیل دینا چاہیے، نہ کہ مسلسل جنگوں کے ذریعے، جنہیں اکثر بیرونی قوتیں ہوا دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے میں ممالک کے درمیان بات چیت، خودمختاری اور مساوات کا احترام اور باہمی سلامتی کے قابلِ اعتماد انتظامات شامل ہونے چاہییں۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے اس سلسلے میں مصر کے کردار کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ مصر اس نئے سکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات کے وسیع تر اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگیں صرف متاثرہ ممالک تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات سرحدوں سے آگے بھی پھیلتے ہیں۔ ان کے نتیجے میں توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، تجارت میں رکاوٹیں اور عام شہریوں کی مشکلات بڑھتی ہیں۔


































