Wed Oct 28, 2026

ماسکو : ایرانی صدر کی روسی ہم منصب اور امیر قطر سے ملاقات پاک افغان سرحد پر اشتعال انگیزی، ایک شہری جاں بحق، 5 زخمی بہت سے لوگ چاہتے تھے کہ بانی کی بہنیں خاموش رہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس پائیدار امن کے لیے نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کی ضرورت ہے، انتونیو گوتریس ایران کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار امن وسلامتی ممکن نہیں، عمانی وزیر خارجہ اردنی فوج کے شام میں فضائی حملے، 7 افراد جاں بحق، 3 زخمی رہبر معظم مکمل صحت مند ہیں، انہیں ملکی معاملات پر مکمل گرفت حاصل ہے، قالیباف یمن کی فوجی صلاحیتوں کو کم تر سمجھنا مخالفین کے لیے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے، انصار اللہ طاقتور ایران، سائنسی و تکنیکی طاقت کی بنیاد پر مضبوطی سے کھڑا ہے: ولی امر مسلمین ایران مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، سلامتی اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے تعاون پر تیار ہے، پزشکیان تہران : 4 ملکی اجلاس کا امن و سلامتی کے فروغ کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ایران نے جارحیت کی صورت میں ممکنہ اہداف واضح کردئے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تیاری مکمل ’بحری قزاق‘ کون ہے؟ اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کے بیان سے روبیو کو جواب دیدیا امریکا مخالف لولا دی سلوا چوتھی بار برازیل کے صدر منتخب

روزانہ کی خبریں

پائیدار امن کے لیے نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کی ضرورت ہے، انتونیو گوتریس

قاہرہ : اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ قاہرہ یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خطے کا کوئی بھی ملک دوسرے ملک کی قیمت پر مستقل سلامتی حاصل نہیں کر سکتا۔ گوتریس نے کہا کہ علاقائی ممالک کے درمیان مکالمہ، بین الاقوامی قانون کا احترام اور مشترکہ سلامتی نئے سکیورٹی نظام کی بنیاد ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل خطے کے عوام اور ممالک کو خود تشکیل دینا چاہیے، نہ کہ مسلسل جنگوں کے ذریعے، جنہیں اکثر بیرونی قوتیں ہوا دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے میں ممالک کے درمیان بات چیت، خودمختاری اور مساوات کا احترام اور باہمی سلامتی کے قابلِ اعتماد انتظامات شامل ہونے چاہییں۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے اس سلسلے میں مصر کے کردار کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ مصر اس نئے سکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات کے وسیع تر اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگیں صرف متاثرہ ممالک تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات سرحدوں سے آگے بھی پھیلتے ہیں۔ ان کے نتیجے میں توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، تجارت میں رکاوٹیں اور عام شہریوں کی مشکلات بڑھتی ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular