
دوحہ: قطری ثالثوں نے ایران کو معاہدے کا نیا مسودہ پیش کر دیا۔ ایران کی جانب سے رواں ہفتے کے اختتام تک جواب متوقع ہے۔ مذاکرات سے آگاہ ایک عہدیدار کے حوالے سے رائٹرز نے بتایا کہ ایران کی جانب سے جمعے تک جواب متوقع ہے۔ مجوزہ معاہدے میں فریقین کے تحفظات دور کرنے کے لیے سات روزہ طریقۂ کار تجویز کیا گیا ہے، جس کے تحت دونوں جانب سے روزانہ اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں گے۔ عہدیدار کے مطابق، اس عمل کا آغاز آئندہ ہفتے کے اوائل میں ہو سکتا ہے۔ معاہدے کی ضمانت کے لیے متعدد ممالک بھی کردار ادا کریں گے، تاہم عہدیدار نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے۔
اعلیٰ ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ قطر نے امریکا کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے کےلئے کوئی نئی تجویز پیش نہیں کی۔ قطر نے ایسے آئیڈیاز پیش کیے جو ایران کو ناقابل قبول ہیں، جوہری معاملے پر لچک دکھانے سے متعلق ایرانی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ محمود مالکی نے قطری وزارت خارجہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تہران میں ایران، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان چار ملکی اجلاس ایران کی نیک نیتی اور خطے کے عوام کے مشترکہ مفادات کے لیے ذمہ دارانہ طرزعمل کا مظہر ہے۔


































