Thu Oct 29, 2026

امریکا نے اقوام متحدہ کی نمائندہ فرانسسکا البانیز کو ہٹانے کا مطالبہ کردیا نوجوان ترقی کی بلندیوں تک پہنچنے کے لیے خود کو علم اور ایمان کے ہتھیاروں سے لیس کریں، ولی امر مسلمین ایران امریکا معاہدہ لبنان پر اسرائیلی حملوں میں کمی کا سبب بن سکتا ہے، سربراہ حزب اللہ عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے ایران نے قطری ثالثوں کے نئے مسودہ کو ناقابل قبول قرار دے دیا اسرائیلی الیکشن، نیتن یاہو اور اپوزیشن اتحاد اکثریت حاصل کرنے میں ناکام عراق: ایران کے ساتھ سرحدی گزرگاہ کی بندش پر احتجاج، حکومت سے فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ امریکا کی عہد شکنی اور معاہدوں کی خلاف ورزی کی فہرست بہت طولانی ہے: ایران ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز امریکا مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران پر بڑے حملے کیلئے تیار، خلیجی ممالک کو آگاہ کر دیا ماسکو : ایرانی صدر کی روسی ہم منصب اور امیر قطر سے ملاقات پاک افغان سرحد پر اشتعال انگیزی، ایک شہری جاں بحق، 5 زخمی بہت سے لوگ چاہتے تھے کہ بانی کی بہنیں خاموش رہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس پائیدار امن کے لیے نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کی ضرورت ہے، انتونیو گوتریس ایران کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار امن وسلامتی ممکن نہیں، عمانی وزیر خارجہ

روزانہ کی خبریں

ایران نے قطری ثالثوں کے نئے مسودہ کو ناقابل قبول قرار دے دیا

دوحہ: قطری ثالثوں نے ایران کو معاہدے کا نیا مسودہ پیش کر دیا۔ ایران کی جانب سے رواں ہفتے کے اختتام تک جواب متوقع ہے۔ مذاکرات سے آگاہ ایک عہدیدار کے حوالے سے رائٹرز نے بتایا کہ ایران کی جانب سے جمعے تک جواب متوقع ہے۔ مجوزہ معاہدے میں فریقین کے تحفظات دور کرنے کے لیے سات روزہ طریقۂ کار تجویز کیا گیا ہے، جس کے تحت دونوں جانب سے روزانہ اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں گے۔ عہدیدار کے مطابق، اس عمل کا آغاز آئندہ ہفتے کے اوائل میں ہو سکتا ہے۔ معاہدے کی ضمانت کے لیے متعدد ممالک بھی کردار ادا کریں گے، تاہم عہدیدار نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے۔
اعلیٰ ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ قطر نے امریکا کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے کےلئے کوئی نئی تجویز پیش نہیں کی۔ قطر نے ایسے آئیڈیاز پیش کیے جو ایران کو ناقابل قبول ہیں، جوہری معاملے پر لچک دکھانے سے متعلق ایرانی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ محمود مالکی نے قطری وزارت خارجہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تہران میں ایران، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان چار ملکی اجلاس ایران کی نیک نیتی اور خطے کے عوام کے مشترکہ مفادات کے لیے ذمہ دارانہ طرزعمل کا مظہر ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular