Fri Oct 30, 2026

پوسٹ سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کرنے والے ٹرمپ کا سوشل میڈیا پوسٹس تک فوری رسائی فروخت کرنے کا فیصلہ بھارت میں گائے ذبح کرنے پر 3 مسلمانوں کو عمر قید کی سزا ایران کی شرائط پر اتفاق کے بغیر مذاکرات میں کوئی پیش رفت ممکن نہیں، قالیباف اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد آگے، اکثریت سے محروم ایرانی حکام نے اسرائیل نواز نیٹ ورک کے 5 اراکین گرفتار کرلئے آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا امید ہے کہ اسرائیل میں نئی حکومت امن مذاکرات شروع کرے گی، فلسطینی صدر شوق سے ایران نہیں جاتا وزیراعظم نے خصوصی ذمہ داری دے رکھی ہے، محسن نقوی ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکا کا ایک اور ڈرون مار گرایا ایران کی جانب سے سفارت کاری کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، عراقچی امریکا نے اقوام متحدہ کی نمائندہ فرانسسکا البانیز کو ہٹانے کا مطالبہ کردیا نوجوان ترقی کی بلندیوں تک پہنچنے کے لیے خود کو علم اور ایمان کے ہتھیاروں سے لیس کریں، ولی امر مسلمین ایران امریکا معاہدہ لبنان پر اسرائیلی حملوں میں کمی کا سبب بن سکتا ہے، سربراہ حزب اللہ عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے ایران نے قطری ثالثوں کے نئے مسودہ کو ناقابل قبول قرار دے دیا

روزانہ کی خبریں

پوسٹ سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کرنے والے ٹرمپ کا سوشل میڈیا پوسٹس تک فوری رسائی فروخت کرنے کا فیصلہ

واشنگٹن: اپنی پوسٹ سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کرنے والے امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹس تک فوری رسائی فروخت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل نے صدر کی پوسٹس تک تیز ترین رسائی فراہم کرنے کے لیے بلومبرگ اور وال اسٹریٹ کی دو بڑی ٹریڈنگ کمپنیوں کو اپنی بامعاوضہ سروس میں شامل کر لیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق اس سروس کے لیے ماہانہ فیس 60 ہزار سے ایک لاکھ ڈالر تک وصول کی جا رہی ہے، سروس سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں میں مالیاتی معلومات فراہم کرنے والا ادارہ بلومبرگ اور ہائی فریکوئنسی ٹریڈنگ کرنے والی کمپنیاں سسکیوہانا انٹرنیشنل گروپ اور جمپ ٹریڈنگ شامل ہیں۔
یہ کمپنیاں خودکار کمپیوٹر سسٹمز کے ذریعے مالیاتی منڈیوں میں تیزی سے لین دین کرتی ہیں، ٹروتھ سوشل کی ’ٹروتھ اے پی آئی‘ سروس صارفین کو ٹرمپ کی پوسٹس عام صارفین کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے فراہم کرتی ہے۔
کمپنی کے حکام کے مطابق یہ برتری 50 ملی سیکنڈ تک ہو سکتی ہے، مالیاتی منڈیوں میں یہ معمولی سا فرق بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ امریکی صدر کے بیانات تیل، حصص اور دیگر مالیاتی اثاثوں کی قیمتوں میں فوری اتار چڑھاؤ پیدا کر سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر اپریل میں ایران جنگ کے دوران جنگ بندی کے اعلان کے بعد تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی۔

مزید پڑھیے

Most Popular