تہران :ولی امر مسلمین آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہےکہ جو لوگ امریکی سیاست میں تبدیلی سے ایران کے خلاف امریکی تسلط پسندانہ نظام کے رویے میں تبدیلی کی ذرا سی بھی امید رکھتے ہیں یا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ امریکہ کو مراعات دے کر اسے ایرانی قوم کے خلاف دشمنی سے باز رکھا جا سکتا ہے وہ سخت غلطی پر ہیں۔
1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کی برسی کے موقع پر تفصیلی بیان میں آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای ان توقعات کو ان عظیم کامیابیوں کی نفی قرار دیا جو ایرانی عوام نے خدا پر توکل، استقامت اور جدوجہد کے ذریعے حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیطانِ بزرگ کی اصل خواہش یہ ہے کہ ایرانی قوم غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دے۔ انہوں نے کہا کہ تسلط پسند دشمن کے سامنے ذرا سا بھی جھکاؤ یا کمزوری دکھانا، اس عظیم سرمائے کو ضائع کر دے گا جو شہداء کے خون اور قوم کے تمام طبقات کی قربانیوں سے حاصل ہوا ہے۔ اس سے متکبر دشمن مزید ناجائز مطالبات کرنے اور جارحیت و جنگ جیسے اقدامات اٹھانے کے لیے اور بھی زیادہ جری ہو جائے گا۔
ولی امر مسلمین نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ ایران کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی کی تو تہران کا جواب کہیں زیادہ شدید ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ خطے میں امریکی اڈوں کو تباہ کرنا اور آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا ایران کی اُس مہم کا حصہ تھا جس کا مقصد امریکی بالادستی کو چیلنج کرنا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنی بالادستی کے خاتمے کو ابھی دور سمجھتا ہے، جبکہ ہم اسے بہت قریب دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانیوں پر امریکی مظالم کی شروعات 70 سال پہلے ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش سے ہوئی، تاکہ وہ ایران کے قومی وسائل اور دولت، خاص طور پر اس کے تیل کو لوٹ سکے، اس کے بعد کی دہائیاں بھی ایرانی عوام کے مال و دولت کو بےدردی سے لوٹنے کی امریکی کوششوں سے بھری پڑی ہیں۔


































