سعودی عر ب کی وزرائے خارجہ اجلاس سے بچنے کیلئے پارلیمانی فورم یا اسپیکرز کانفرنس بلانے کی پیشکش
مسئلہ کشمیر امہ کے واضح پیغام کیلئے او آئی سی اجلاس نہایت ضروری ہے،وزیرخارجہ، مسئلہ کشمیر پر او آئی سی کی خاموشی مایوس کن ہے،وزیراعظم عمران خان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سعودی عرب مقبوضہ کشمیر پر اسلامی تعاون تنظیم کا اجلاس بلانے میں رکاوٹ بن گیا،جس پر پاکستانی حکام نے شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی حکام کشمیر پر او آئی سی کی کونسل برائے وزرائے خارجہ (سی ایف ایم) کے اجلاس بلانے کی گذشتہ اگست سے کوشش کررہے ہیں،او آئی سی کے انسانی حقوق کمیشن کی کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی رپورٹ کے باوجود سی ایف ایم اجلاس کیلئے کوئی پیشرفت نہ ہوسکی، سعودی عرب نے بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کی وجہ سے پاکستان کی درخواست قبول کرنے سے انکار کردیا ہے، سعودی عرب نے سی ایف ایم سے بچنے کیلئے پاکستان کو متعدد پیشکش کی ہیں جن میں مسلم ممالک کا پارلیمانی فورم یا اسپیکرز کانفرس شامل ہیں، پاکستان کا کہناہے کہ اسپیکر کا اجلاس مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کی سنگینی کے برابر نہیں، پاکستان نے سعودی دباؤ پر کوالالمپور سمٹ میں شرکت نہیں کی تو سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے دسمبر میں اسلام آباد کے دورے کے دوران شاہ محمود قریشی اور وزیر اعظم سے ملاقاتوں میں اجلاس طلب کرنے پر لچک دکھائی تاہم اب وہ اپنے پرانے موقف پر واپس چلا گیا ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حال ہی میں پریس کانفرنس کے دوران سی ایف ایم اجلاس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر کے مسئلے پر یہ امہ کی جانب سے ایک واضح پیغام کے لیے نہایت ضروری ہے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے سعودی ہم منصب کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں مسئلہ کشمیر، دوطرفہ تعلقات اور خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تاہم سی ایف ایم اجلاس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا،وزیر اعظم عمران خان نے بھی ملائیشیا میں تھنک ٹینک سے خطاب میں کشمیر کے مسئلے پر او آئی سی کی خاموشی پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہاکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری کوئی آواز نہیں اور ہم تقسیم ہوچکے ہیں، ہم کشمیر کے مسئلے پر او آئی سی میں ہم آواز بھی نہیں ہوسکتے۔
- Home
- بین الاقوامی خبریں
- ایشیا
- مقبوضہ کشمیر پر او آئی سی کا اجلاس،سعودیہ کا پاکستان…


































