
متنازع شہریت بل کیخلاف پر امن احتجاج کرنیوالوں پر انتہا پسندوں کی چڑھائی، مسلمانوں پر حملے، دکانیں، مزار،پٹرول پمپ اور سرکاری املاک کو نذرآتش
7 افراد ہلاک،50 سے زائد زخمی،انتہا پسند اسلحے کے زور پر ادھم مچاتے رہے، املاک کو راکھ کا ڈھیر بناتے رہے، پولیس تماشادیکھتی رہی
نئی دہلی(نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی بھارت میں موجودگی کے موقع پرانتہا پسند ہندو، مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے، مسلمانوں پر حملے، دکانیں، مزار،پٹرول پمپ اور سرکاری املاک کو جلادیا، ظفر آباد، موج پور، سلیم پور اور چاند باغ سمیت کئی مسلم آبادیوں پر ہندو انتہا پسندوں نے منظم حملے کئے،جس کے ساتھ ہی جھڑپیں دیکھنے میں آئیں،پولیس اہلکاروں نے زخمی مظاہرین پر ڈنڈے برسائے، انہیں گالیاں دیں اور ان سے زبردستی بندے ماترم پڑھوایا، متنازع شہریت بل کیخلاف،پر امن احتجاج کرنیوالوں پر انتہا پسندوں کی چڑھائی میں پولیس نے بھی ساتھ دیااور جب انہوں نے پر امن مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا تو وہاں پر بھگدڑ مچ گئی،ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس اہلکار سمیت 7 افراد ہلاک اور50 سے زائد زخمی ہو گئے،انتہا پسند اسلحے کے زور پر ادھم مچاتے رہے، املاک کو راکھ کا ڈھیر بناتے رہے، پولیس خاموش تماشائی بنی کھڑی دیکھتی رہی شمال مشرق دہلی کے 10علاقوں میں پولیس نے دفعہ 144نافذ کر دی ہے نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے وزیر داخلہ اور لیفٹیننٹ گورنر سے امن کی اپیل کی اور کہا کہ قانون کی بالادستی قائم کرنے میں مدد کریں، بھارتی سیاست دان اسد الدین اویسی اوربھارتی صحافی برکھا دت نے دہلی فساد کی جڑ بی جے پی رہنما کپل مشرا کے اْس بیان کو ٹھہرایا ہے جس میں دہلی والوں کو صاف صاف دھمکی دی گئی تھی۔


































