Sat Oct 10, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

نسل پرستی کیخلاف برطانیہ، آسٹریلیا اور فرانس میں مظاہرے

لندن (نیٹ نیوز) امريکی شہری جارج فلائیڈ کی امریکی پوليس اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد دنیا بھر ميں نسل پرستی اور پوليس کی ظالمانہ کارروائيوں کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ ہفتے کے روز تین روزہ احتجاج کے منصوبے کے پہلے دن برطانیہ، آسٹریلیا اور فرانس میں ریلیاں نکالی گئیں۔ تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں گزشتہ روز نسل پرستی کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین اور دائیں بازو کے انتہا پسندوں نے علیحدہ علیحدہ احتجاجی مظاہرے کئے، دائیں بازو کے گروپ سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد جنگ عظیم دوم کے رہنما ونسٹن چرچل اور دیگر نامور شخصیات کے مجسموں کے قریب جمع ہوئے۔ آسٹريليا ميں حکام کی جانب سے تنبیہ کے باوجود بليک لائيوز مَيٹر کے نام سے گزشتہ روز ہونے والے مظاہروں ميں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ زیادہ تر مظاہرين چہروں پر ماسک پہنے ہوئے اور سماجی فاصلوں سے متعلق قوانين کا احترام کرتے دکھائی ديے۔
دوسری جانب لندن اور پیرس میں انتہائی دائیں بازو کے گروپوں کی جانب سے نسل پرستی کیخلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کیخلاف مظاہرے کیے گئے۔ لندن میں دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے پولیس پر حملے، مظاہرین نے پولیس پر آتش گیر مادوں، بوتلوں اور کینوں سے حملہ کیا، پیرس میں بھی سفید فاموں کے حق میں سینکڑوں افراد جمع ہوئے تاہم وہاں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Most Popular