پاکستان کے بغیر ان معاملات کا آگے بڑھنا ممکن نہیں تھا،شاہ محمود قریشی
کابل (نیوز ڈیسک) افغانستان میں امریکا اورافغان طالبان کے درمیان جزوی صلح اور جنگ بندی سے افغانستان میں امن کی نئی امیدیں روشن ہوگئی ہیں، جزوی معاہدے کے تحت طالبان، امریکا اور افغان فورسز نے ایک ہفتے کیلئے تشدد میں کمی سے اتفاق کیا ہے،اس جنگ بندی سے امریکا اور طالبان مزاحمت کاروں کے درمیان مستقل امن معاہدہ طے پانے کی راہ ہموار ہوگی اور اس پر 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دونوں فریق دستخط کریں گے، اس کے بعد افغانستان سے اٹھارہ سال کے بعد امریکی افواج کو واپس بلا لیا جائے گا،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر افغانستان میں طالبان کے ساتھ کوئی امن معاہدہ طے پاجاتا ہے تو وہ بہ نفس نفیس اس پر دستخط کے لیے جائیں گے،امریکی افواج کے سربراہ جنرل اسکوٹ مِلر نے کہا ہے کہ افغانستان میں شورش کی کارروائیوں میں کمی لانے کے معاملے پر تمام فریقین متفق ہیں،افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان تشدد میں کمی کے معاہدے کا اطلاق شروع ہوگیا ہے مگر القاعدہ، داعش اور دیگر گروہوں کیخلاف کارروائیاں جاری رہیں گی،پاکستانی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے خلوص اور نیک نیتی سے افغان امن عمل میں اپنا کردار ادا کیا، اب افغان قیادت اور عوام کو اپنا کردار ادا کرنا ہے، پاکستان کی موجودگی میں 29 فروری کو امریکا طالبان معاہدے پر دستخط ہونگے، پاکستان کے بغیر ان معاملات کا آگے بڑھنا ممکن نہیں تھا، اب افغانستان کی تعمیر نو میں پاکستان کو کردار ادا کرنے کا موقع میسر آئے گا اور دو طرفہ تجارت کو فروغ ملے گا، ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا آسان نہیں تھا،ہم نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور کابل تک کا سفر طے کر لیا ہے، ہم نہ صرف ایک مستند وفد کو سامنے لے کر آئے بلکہ اس وفد نے مذاکرات کو منطقی انجام تک بھی پہنچایا ہے۔
- Home
- بین الاقوامی خبریں
- ایشیا
- افغانستان میں امن کی امید، 29فروری کو معاہدہ کی تیاریاں


































