
سلامتی کونسل میں ایران پر دوبارہ پابندیوں کی امریکی درخواست واپس، ایرانی سفارتکاروں پر سفری پابندیوں میں نرمی،ایٹمی معاہدہ پر مذاکرات کی پیشکش
ایران پر دباﺅ کی پالیسی ناکام رہی،ہماری مشکلات میں اضافہ ہوا، امریکی وزیر خارجہ،امریکا پابندیاں اٹھائے ، اقدامات واپس لے لیں گے،جواد ظریف
واشنگٹن/تہران (نیوز ڈیسک) امریکا نے ایران پر دباﺅڈالنے کے ہتھکنڈوں کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مصالحت کی راہ اختیار کرلی ،امریکا نے سلامتی کونسل میں ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے سے متعلق نہ صرف درخواست واپس لے لی بلکہ ایرانی سفارتکاروں پر ٹرمپ دور میں عائد سفری پابندیاں بھی نرم کر دی ہیں اب ایرانی سفارتکار آزادانہ نقل وحرکت کرسکتے ہیں، اقوام متحدہ نے امریکا کے ٹریگر میکینزم کو فعال بنانے کی درخواست واپس لینے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایٹمی معاہدے کے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاہدے پر مکمل عملدرآمد اور اسکی تقویت کے لئے کوشاں رہیں،ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف اسلحہ جاتی پابندیوں میں توسیع کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد سلامتی کونسل میں ایٹمی معاہدے کے ٹریگر میکینزم کو فعال بنانے کی درخواست دی تھی ، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادے نے ٹریگر میکینزم سے امریکا کی پسپائی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے امریکا کو پابندیوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات انجام دینا ہوں گے، امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اعتراف کیا کہ ہم نے گزشتہ برسوں کے دوران ایران پر زیادہ سے زیادہ دباﺅ ڈالنے کی پالیسی اختیارکی جس میں نہ صرف ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا بلکہ ہمارے مسائل و مشکلات میں اضافہ بھی ہوا ، اگر ایرانی ایٹمی معاہدے کی مکمل تعمیل کرتا ہے تو امریکا بھی معاہدے کی طرف لوٹ سکتا ہے،امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے اجلاس میں شرکت کی دعوت قبول کرلے گا، ایرانی وزارت خارجہ نے فوری جواب دیا کہ امریکا کے نکلنے کے بعد اب صرف ایران اور چار جمع ایک باقی بچا ہے ، ٹرمپ نے ایٹمی معاہدے کو ترک ہی نہیں بلکہ اس کو نابود کرنے کی بھی پوری کوشش کی ،اگر نئی امریکی انتظامیہ پانچ جمع ایک گروپ کو دوبارہ فعال بنانا چاہتی ہے تو اس معاہدے پر عمل کرکے دکھائے اور پابندیاں ختم کردے، بائیڈن انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ ایٹمی معاہدے سے یک طرفہ علیحدگی کی وجہ سے امریکا عالمی سطح پر الگ تھلگ پڑ گیا ہے، ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا تھا کہ اگر امریکا ایران کے خلاف پابندیاں اٹھا لے تو ایران عالمی طاقتوں کے ساتھ کئے گئے ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی پر مبنی تمام اقدامات واپس لے لے گا۔


































