
امریکا نے ترکی میں فوجی بغاوت کا منصوبہ بنایا جس پر فتح اللہ گولن کے نیٹ ورک نے عمل کیا او یورپ اس بارے میں بہت سرگرم تھا،ترک وزیر داخلہ
بے بنیاد اور غیر ذمہ داری سے دعویٰ کرنا ترکی کے امریکا اور نیٹو کے ساتھ اسٹریٹیجک اتحادی ہونے کے اسٹیٹس کے منافی ہے،امریکا کاترکی کو جواب
انقرہ (نیوز ڈیسک) ترکی نے ملک میں ناکام فوجی بغاوت کا الزام امریکا پر عائد کردیا، ترک وزیر داخلہ سلیمان صویلو نے کہا ہے کہ امریکا نے ترکی میں فوجی بغاوت کا منصوبہ بنایا جس پر فتح اللہ گولن کے نیٹ ورک نے عمل کیا او یورپ اس بارے میں بہت سرگرم تھا واضح ہوچکا ہے کہ بغاوت کے پیچھے امریکا کا ہاتھ ہے، ترکی نے امریکا سے فتح اللہ گولن کوحوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن امریکا نے عدم شواہد کی بنا پر ترکی کا مطالبہ مسترد کردیا تھا،ترک وزیر خارجہ سلیمان سوئلو نے بتایا کہ امریکہ نے اس بغاوت کی منصوبہ بندی کی ، یورپ اس پر بہت خوش تھا،امریکا نے ترکی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اسے مکمل غلط قرار دیا ہے ، امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے پیچھے امریکا کا کوئی ہاتھ نہیں بلکہ امریکا نے اس واقعے کی شدید مذمت کی تھی لہٰذا ترک حکام کی جانب سے یہ دعویٰ مکمل بے بنیاد ہے، امریکا پر بے بنیاد اور غیر ذمہ داری سے دعویٰ کرنا ترکی کے امریکا اور نیٹو کے ساتھ اسٹریٹیجک اتحادی ہونے کے اسٹیٹس کے منافی ہے، 15 جولائی 2016 کو ترکی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت میں اقتدار پر قبضے کے دوران 250 شہری ہلاک ہوئے تھے ، ناکام بغاوت کے بعد سے گولن سے تعلقات ہونے کے شبے میں تقریبا 292 ہزار افراد کو گرفتار کر چکا ہے اور ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ سرکاری ملازمین کو ملازمت سے برطرف یا معطل کردیا ہے


































