
ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی ایران نے نہیں امریکا اور یورپی ممالک نے کی، امریکی پابندیاں اٹھانے تک ایران جوہری اقدامات سے پیچھے نہیں ہٹے گا
امریکا کے حالیہ واقعات اسکی طاقت اور سماجی و سیاسی نظام کے زوال کی نشانی ہیں،خطے میں امریکا سے وابستہ حکومتوں کی پریشانی امریکی زوال کے خوف کا نتیجہ ہے
تہران(نیوز ڈیسک) ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے پابندیاں اٹھانے تک ایران جوہری اقدامات سے پیچھے نہیں ہٹے گا، ایٹمی معاہدے پر دوبارہ عملدرآمدامریکی پابندیوں کے عملی خاتمے سے مشروط ہے،انہوں نے امریکا کے حالیہ ذلت آمیز واقعات امریکی زوال کی علامت قرار دیا، فضائیہ کے افسروں اور جوانوں سے خطاب میں ولی امر مسلمین نے کہا کہ امریکا اور یورپ کو شرطیں عائد کرنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ انہوں نے ہی ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، یہ ایران ہے جسے شرطیں رکھنے کا حق حاصل ہے، کیونکہ ایران ایٹمی معاہدے کی پابندی کرتا رہا ہے،. اگر یہ ایران سے چاہتے ہیں کہ وہ اپنی پاسداریوں کی جانب واپس لوٹے تو پہلے امریکا کو تمام پابندیاں اٹھانا ہوں گی، ایران اپنے ایٹمی وعدوں پر مکمل طور سے اس وقت واپس آئے گا جب امریکا کی جانب سے تمام پابندیاں، زبانی اور تحریری نہیں عملی طور پر ختم ہو جائیں گی اور ایران کو اس بات کا یقین حاصل ہوجائے گا کہ یہ تمام پابندیاں ختم ہو چکی ہیں، ہماری حتمی اور دو ٹوک پالیسی ہے، اس پر تمام عہدیدار متفق ہیں اور کوئی بھی اس سے پیچھے نہیں ہٹے گا، انہوں نے کہا کہ امریکا مسلسل ایران کے بارے میں تخمینے کی غلطی کرتا رہا ہے اور اسے ایرانی قوم کی صحیح پہچان بھی نہیں ، 2009 کے واقعات اس کی واضح مثال ہیں جب اس وقت کے ڈیموکریٹ صدر نے حساب کتاب کی غلطی کی اور یہ سمجھتے ہوئے کہ کام تمام ہو چکا ہے، ایران میں فسادات کرنے والوں کی باضابطہ حمایت کا اعلان کردیا، انہوں نے ایران کو جھکانے کی غرض سے عائد کی گئی پابندیوں کو امریکیوں کے حساب کتاب اور ان کے اندازوں کی ایک اور غلطی قرار دیا اور کہا کہ اول درجے کے احمقوں میں سے ایک نے، کہا تھا کہ 2019 کے کرسمس پر تہران میں جشن مناواں گا، لیکن آج وہ شخص خود تاریخ کے کوڑے دان میں پڑا ہے اور اس کا باس بھی لاتیں کھا کر اور ذلیل ہوکر وائٹ ہاوس سے نکل چکا ہے، جبکہ ایران، خدا کے لطف و کرم سے سینہ تانے کھڑا ہے، انہوں نے امریکا میں رونما ہونے والے واقعات اور ٹرمپ کے زوال کو امریکی طاقت اور سماجی و سیاسی انتظام کی پستی اور زوال کی نشانی قرار دیا،ولی امر مسلمین نے خطے میں امریکاسے وابستہ حکومتوں اور خاص طور سے صیہونی حکومت کی پریشانی، خوف و ہراس اور اس کی ہرزہ سرائی کو بین الاقوامی اور اندرونی سطح پر امریکا کے حقیقی زوال سے پیدا ہونے والے خوف اور ڈپریشن کا نتیجہ قرار دیا انہوں نے کہاکہ میدان عمل میں عوام کی موجودگی، انتھک جدوجہد، اتحاد ویکجہتی، وعدہ الہی پر بھروسے اور قومی طاقت میں عملی اضافہ، انقلاب کی رفتار کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری عناصر ہیں۔


































