
آئندہ مہینوں کے دوران فوجوں میں کمی کا سلسلہ جاری رہے گا، واشنگٹuن عراق میں مستقل اڈوں یا مستقل عسکری وجود کے لیے کوشاں نہیں،مذاکرات کے بعد بیان
دونوں ممالک کی جولائی میں پھر بات چیت ہو گی، امریکی فوجیوں کے مزید قیام کی ضرورت نہیں،عراقی مشیر، امریکی وعدوں پراعتماد نہیں کیا جا سکتا،حشد الشعبی
بغداد (نیوز ڈیسک) امریکا نے عراقی عوام کو دھوکا دینے کیلئے فوجوں میں کمی کا اعلان کردیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ کب اور کتنے فوجی واپس بلائے جائیں گے، بغداد اور واشنگٹن کے درمیان تزویراتی بات چیت کے ابتدائی مرحلے کے بعد جاری بیان میں امریکا نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ مہینوں کے دوران فوجوں میں کمی کا سلسلہ جاری رہے گا، واشنگٹن عراق میں مستقل اڈوں یا مستقل عسکری وجود کے لیے کوشاں نہیں،جبکہ عراقی حکومت نے ان فوجی اڈوں کی حفاظت کا وعدہ کیا ہے جہاں امریکی فوجی موجود ہیں،عراقی وزارت خارجہ کے ترجمان احمد الصحاف کے مطابق تزویراتی بات کا سلسلہ جاری رہے گا، امریکی فوجیوں کا انخلا ہم آہنگی کے ساتھ انجام پائے گا تاکہ پارلیمنٹ کے منظور کردہ بل پر مکمل طور پر عمل درآمد ہو سکے،دونوں ممالک کی مذاکرات کار کمیٹیوں کے درمیان جولائی میں بھی بات چیت ہو گی، عراقی وزیر اعظم کے مشیر حشام داود نے کہا ہے کہ عراق میں امریکی فوجیوں کے مزید قیام کی ضرورت نہیں ، عراقی فوج اور سیکورٹی ادارے دہشت گردوں کے مقابلے اور اندرونی سلامتی کے معاملات سے نمٹنے کی پوری توانائی رکھتے ہیں،ادھرالحشد الشعبی نے کہا ہے کہ امریکی وعدوں پراعتماد نہیں کیا جا سکتا ،امریکا کیلئے اس کے مفادات سے زیادہ اور کوئی چیز اہم نہیں اس نے کئی معاہدوں کو اپنے مفادات کیb خاطر ختم کردیا اور ایران جوہری معاہدے سے امریکی انخلا اس کی ایک مثال ہے، الفتح اتحاد نے اعلان کیا ہے امریکی دہشتگردوں کے انخلا کے بارے میں پارلیمنٹ کے بل پر عمل درآمد، ملت عراق کا اسٹریٹجک مقصد ہے۔


































