
گلگت : مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان نے امریکی نمائندے کے دوروں اور سرکاری سطح پر ملاقاتوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل، معدنیات، پانی اور زمین کو کسی بھی بیرونی طاقت کے مفادات کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انجمن نے پاکستان اور گلگت بلتستان کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ حساس نوعیت کے اس خطے میں غیر ملکی نمائندوں کی سرگرمیوں اور ملاقاتوں کے حوالے سے مکمل شفافیت اختیار کی جائے اور عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔
مرکزی انجمن امامیہ نے امریکی نمائندے کے دوروں اور سرکاری ملاقاتوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان ایک حساس خطہ ہے، جہاں پانی، معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ انجمن نے ان وسائل سے متعلق معاملات میں بیرونی اثرو رسوخ بڑھنے کے خدشات کا اظہار کیا اور کہا کہ کسی بھی سفارتی دورے یا ترقیاتی تعاون کی آڑ میں خطے کے وسائل اور اہم معاملات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش قابل قبول نہیں ہوگی۔
پریس ریلیز میں امریکہ کی پالیسیوں اور خطے میں جاری تنازعات کے تناظر میں امریکی نمائندے کی سرگرمیوں پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ انجمن کے مطابق ایسے وقت میں جب ایران، فلسطین، غزہ اور لبنان میں مسلمانوں کے خلاف جنگی کارروائیاں اور قتل و غارت جاری ہیں، امریکی نمائندے کو گلگت بلتستان جیسے حساس خطے میں سرکاری سطح پر دوروں اور ملاقاتوں کے لیے مدعو کرنا قابلِ غور معاملہ ہے۔ مرکزی انجمن امامیہ نے اپنی پریس ریلیز میں ولی امر مسلمین شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت اور ایران میں معصوم بچوں سمیت بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی نمائندے کی ملاقاتوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انجمن کے مطابق یہ سرگرمیاں اسلامی دنیا کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہیں۔ بیان میں غزہ کے فلسطینی عوام پر جاری حملوں اور لبنان سمیت خطے کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مظلوم مسلمانوں کے خلاف جاری جارحیت اور قتل و غارت کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انجمن نے واضح کیا کہ ملت اسلامیہ کے خلاف جارحیت اور مظلوم مسلمانوں کی شہادتوں کے معاملے پر خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان نے واضح کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل، معدنیات، آبی ذخائر اور زمین عوام کی امانت ہیں اور انہیں کسی بیرونی طاقت کے مفادات کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ مرکزی انجمن امامیہ نے حکومت پاکستان اور حکومت گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان جیسے حساس خطے میں غیر ملکی نمائندوں کی سرگرمیوں، دوروں اور سرکاری ملاقاتوں کے مقاصد کے حوالے سے شفافیت یقینی بنائی جائے۔ عوام کو ان معاملات سے آگاہ کیا جائے اور ان کے اعتماد کو مقدم رکھا جائے۔ انجمن نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے وسائل اور مستقبل سے متعلق کسی بھی فیصلے میں عوامی مفادات اور رضامندی کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔ عوام کو اعتماد میں لیے بغیر خطے کے مستقبل یا وسائل کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلے قابل قبول نہیں ہوں گے۔ پریس ریلیز کے اختتام پر مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملت اسلامیہ کے خلاف جارحیت، مظلوم مسلمانوں کی شہادتوں اور گلگت بلتستان کے وسائل و مفادات کے تحفظ کے معاملے پر کسی قسم کی مصلحت یا خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔ انجمن نے واضح کیا کہ خطے کے قدرتی وسائل، عوامی مفادات اور مستقبل کے تحفظ کے لیے اپنے مؤقف پر قائم رہے گی اور کسی بھی ایسی سرگرمی کی مخالفت کرے گی جس سے گلگت بلتستان کے وسائل یا عوامی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔


































