
اسٹاک ہوم : نوبل انعام کمیٹی نے ایک بار پھر جنگی جنونی امریکی صدر ٹرمپ کی خواہشات کو مٹی میں ملادیا۔ رواں سال امن کا نوبل انعام جنوبی افریقا کی انسانی حقوق کی وکیل ناوانیتھم ناوی پلے کے نام رہا۔ سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ناوی پلے نے غزہ میں اسرائیلی کارروائی کو نسل کشی قرار دیا تھا۔ انہیں امن۔ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے خدمات کے اعتراف میں یہ ایوارڈ دیا گیا۔
ناوی پلے نے انعام ملنے کی خبر پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ابتدا میں یقین ہی نہیں آیا کہ یہ خبر واقعی درست ہے۔ انھوں نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ آپ کی تالیاں میرے لیے بہت معنی رکھتی ہیں۔ اگر آپ تھوڑی اور تالیاں بجائیں تو شاید میں یہ انعام ٹرمپ کے ساتھ بھی بانٹ لوں۔
ٹرمپ دو سال سے امن کے نوبل انعام کی بھیک مانگ رہے ہیں انہوں نے گذشتہ سال انعام دینے والی سوئڈش اکیڈمی کو دھمکیاں دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔ گذشتہ سال ونیز ویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچودو کو امن کا نوبل انعام دیا گیا انہوں نے یہ ایوارڈ امریکی صدر کو دے دیا جس پر نوبل انعام کمیٹی نے ان کی سرزنش کی اور انعام واپس لینے سے خؒبردار کیا۔


































