
نیوزی لینڈ (نیٹ نیوز) امریکا میں سفید فام نسل پرستی کیخلاف دوسرے ممالک میں بھی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز نیوزی لینڈ کے ہزاروں شہریوں نے سماجی فاصلے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے امریکا میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی پولیس کی حراست میں ہلاکت کے خلاف مارچ کیا۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ بھی سیاہ فام کی ہلاکت پر خوفزدہ ہیں، تاہم مظاہرین نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی۔ واضح رہے کہ نیوزی لینڈ میں 11 روز سے کورونا وائرس کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا جس کے بعد ملک میں وبا کے باعث عائد تمام پابندیاں آئندہ ہفتے ختم کیے جانے کا امکان ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ملک آئندہ ہفتے الرٹ لیول ون کی طرف جاسکتا ہے، یعنی سماجی فاصلے سے متعلق تمام اقدامات اور عوامی اجتماعات پر عائد پابندیاں ختم ہوجائیں گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ملک کی سرحدوں کی بندش قائم رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سخت لیکن جلدی اقدامات کی حکمت عملی کے بہترین نتائج سامنے آئے جبکہ چند کیسز میں ہماری امید سے زیادہ اچھی نتائج ملے۔


































