
نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر نوبیل امن انعام نہ ملنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک شرمناک فیصلہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس اقدام نے نوبیل کمیٹی کے میزبان ملک ناروے پر ایک نہ مٹنے والا داغ چھوڑ دیا ہے،
ٹرمپ نے کہا کہ یہ ناروے اور ان تمام لوگوں کے چہرے پر ایک نہ مٹنے والا داغ ہے جنہوں نے اتنا شرمناک اور رسوا کن فیصلہ کیا ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چند جمہوریت دشمن اور انسانی تہذیب کے حقیقی دشمنوں پر مشتمل شدت پسند نظریہ دانوں نے نوبیل امن انعام کی ساکھ کو ہمیشہ کے لیے تباہ کر دیا ہے۔ اورہم یہ بات بھولیں گے نہیں، امریکی صدر نے ناوی پلّے کو ایک نامعلوم شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اس شخص کے بارے میں پہلے کبھی نہیں سنا اور نہ ہی کسی اور نے ان کا نام سن رکھا ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال نوبیل امن انعام بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی سابق جج ناوی پلّے کو دینے کا اعلان کیا گیا ہے، جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی ناوی پلّے نے اقوامِ متحدہ کی اس تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی کی تھی جس کی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔


































