
ریاض: یمن کے جوابی حملوں کے خوف سے متحدہ عرب امارات کی تینوں بڑی ایئر لائنز سمیت متعدد بین الاقوامی ایئر لائنز نے سعودی عرب کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں، جبکہ یمن نے ریاض کے لیے صرف ان انسانی پروازوں کی اجازت دی ہے جنہیں صنعا سے اجازت نامہ مل چکا ہو۔
متحدہ عرب امارات کی تینوں بڑی ایئر لائنز اتحاد ایئرویز، ایمریٹس اور فلائی دبئی نے سعودی عرب میں اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔ بھارت کی انڈیگو، ایئر انڈیا اور ایئر انڈیا ایکسپریس نے ریاض سے آنے جانے والی متعدد پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جبکہ ترکی کی ترکش ایئرلائنز نے ریاض سے روانہ ہونے والی تمام چار پروازیں معطل کر دی ہیں۔ قطر ایئرویز کی ریاض سے 8 میں سے 3 پروازیں متاثر ہوئی ہیں، اور مصر کی ایجپٹ ایئر نے بھی ریاض اور ابھا کے لیے پروازیں منسوخ کر دی ہیں اسی طرح جرمنی کی لوفتھانزا، نیدرلینڈز کی کے ایل ایم، برطانیہ کی برٹش ایئرویز، فرانس کی ایئر فرانس، ہانگ کانگ کی کیتھے پیسیفک اور سنگاپور کی اسکُوٹ نے بھی سعودی عرب کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔ عمان ایئر کی ریاض سے 3 میں سے 1 پرواز متاثر ہوئی ہے، جبکہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) نے بھی عارضی طور پر ریاض کے لیے پروازیں روک دی ہیں۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ یمن کے جوابی حملوں نے نہ صرف سعودی رجیم بلکہ پورے خطے کی فضائی صنعت کو شدید متاثر کیا ہے، اور عالمی ایئر لائنز اپنے مسافروں اور عملے کی حفاظت کو ترجیح دے رہی ہیں۔اعلامیے کے مطابق، بظاہر یہ معطلی ایک یا دو دن کے لیے بتائی جا رہی ہے، لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی بتا رہے ہیں۔


































