
ٹرمپ کے حامیوں کا پارلیمنٹ پر دھاوا،مغربی جمہوریت کا اصل چہرہ بے نقاب، ہنگامہ آرائی میں پولیس اہلکار سمیت 4افراد ہلاک، کئی زخمی ،52گرفتار
ٹرمپ اور انکے حامیوں نے تاریخ کا سیاہ ترین دن رقم کیا،جوبائیڈن،مظاہرے شرمناک ہیں ، جمہوریت پامال کی گئی، عالمی رہنماو ¿ں کی مذمت
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی دارلحکومت واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کے حامیوں نے پارلیمنٹ پر دھاوا بول کرمغربی جمہوریت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھا دیا اور جمہوریت اور انصاف کے دعویدار امریکا کو پوری دنیا میں رسوا کردیا، 6جنوری کو نومنتخب صدر جوبائیڈن کی کامیابی کی توثیق کیلئے منعقدہ اجلاس کے موقع پر ٹرمپ کی اپیل پر ہزاروں افراد واشنگٹن پہنچے ،مظاہرین نے کیپٹل ہل کے سامنے جمع ہوکر احتجاج کیا ،ٹرمپ کی تقریر کے بعد مظاہرین آپے سے باہر ہو گئے، اور کیپٹل ہل کی عمارت میں جا گھسے اور جی بھر کر توڑ پھوڑ کی ،اجلاس میں موجود ارکان کانگریس جان بچانے کیلئے کرسیوں کے نیچے چھپ گئے ، انتظامیہ نے نائب صدر مائیک پنس کو محفوظ مقام پر منتقل کیا اور کانگریس کے دفاتر خالی کرالئے ،ہنگامہ آرائی اور جلاوَ گھیراوَ کے دوران پولیس اہلکار سمیت 4افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے پولیس نے 54افراد کو گرفتار کرلیا،ہنگامہ آرائی کے بعد واشنگٹن ڈی سی میں کرفیو نافذ کر دیا گیا جبکہ 24جنوری تک ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، نومنتخب صدر جوبائیڈن نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ٹرمپ اور انکے حامیوں نے تاریخ کا سیاہ ترین دن رقم کیا،انہوں نے ٹرمپ کو بغاوت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا میں جو کچھ ہوا اس کے ذمہ دار ٹرمپ ہے،پارلیمنٹ پر حملہ کر کے نمائندوں کو ہراساں کیا گیا، ووٹ کا تقدس پامال کیا گیا اور یہ اختلاف نہیں لاقانونیت ہے، کیپٹل ہل واقعہ کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے صدر ٹرمپ سے رابطے منقطع کر دئیے ، برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کانگریس کے محاصرے او ر مظاہروں کو شرمناک قرار دیا ،نیٹو سربراہ نے ٹوئیٹ میں لکھا کہ واشنگٹن ڈی سی میں ہلا دینے والے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں ، جمہوریت کی بنیاد پر ہونے والے انتخابات کا احترام ضروری ہے جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس نے بھی ٹرمپ اور انکے حامیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جمہوریت کو پامال نہ کرتے ہوئے امریکی ووٹرز کے فیصلے کا احترام کریں ، کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے امریکا میں جاری تشدد کو لگام دئے جانے کا مطالبہ کی


































