موجودہ صورت حال سے عالمی امن اور سلامتی کو خطرات لاحق ہیں، لیبیا مسلح تنظیموں اور دہشت گرد گروپوں کیلئے زرخیز سرزمین بن چکا ہے،برلن کانفرنس
تنازع کا کوئی عسکری حل نہیں،جرمن چانسلر،متحارب گروہوں پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے،انتونیو گوتریس،ثالثی سے فائدہ اٹھایا جائے،مائیک پومپیو
برلن(نیوز ڈیسک)جرمنی کے دارالحکومت برلن میں لیبیا کے تنازع پر ایک روزہ سربراہی اجلاس میں عالمی رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ بیرونی مداخلت اور فریقین کو اسلحے کی فراہمی پر ممانعت برقرار رکھی جائے گی، لیبیا میں طویل عرصے سے دو حکومتیں قائم ہیں اور دونوں میں اقتدار کے حصول کے لیے خانہ جنگی جاری ہے،مشرقی لیبیا پر فوجی جنرل خلیفہ حفتر حکمرانی کر رہے ہیں جب کہ دارالحکومت طرابلس میں وزیر اعظم فیاض السراج کی قیادت میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت قائم ہے، برلن کانفرنس میں یورپی یونین، اقوام متحدہ، افریقن یونین، عرب لیگ کے نمائندوں سمیت 12 عالمی رہنما شریک ہوئے، کانفرنس کے اختتام پر جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لیبیا میں جاری صورت حال سے عالمی امن اور سلامتی کو خطرات لاحق ہیں،خانہ جنگی کا شکار یہ ملک مسلح تنظیموں اور دہشت گرد گروپوں کے لیے ایک ”زرخیز“ سرزمین بن چکا ہے، اجلاس کی میزبان جرمنی کی چانسلراینگلامرکل کا کہنا تھا کہ تنازع کا کوئی عسکری حل نہیں، طاقت کے استعمال سے عام عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ لیبیا میں متحارب گروہوں پر تمام اطراف سے دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے، رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ وہ لیبیا میں اپنے حامی فریقین کی فوجی استطاعت میں مزید اضافہ نہیں کریں گے،امریکاکے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے زور دیا کہ لیبیا میں میں فریقین کو اقوام متحدہ کے ثالثی کے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے، اس سے وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، فرانسیسی صدر نے مزید کہا ہے کہ اقوام متحدہ کو لیبیا کے متحارب فریقوں کی کسی قسم کی پیشگی شرائط کو ملحوظ رکھے بغیر جنگ بندی کے لیے مذاکرات کرنے چاہییں اور اس کی شرائط وضع کرنی چاہییں۔


































