وائرس چین سے پھیلا، ڈھائی کروڑ افراد ہلاک ہوئے،فلم اور حقیقت میں مماثلت
کراچی(نیوز ڈیسک) 9سال پرانی امریکی فلم میں کورونا جیسے وائرس کا ذکر سازشی نظریات کو تقویت دے رہا ہے، 2011 میں میں ریلیز کی گئی فلم کونٹی جین میں ایک کاروباری خاتون پراسرار اور مہلک وائرس میں مبتلا ہوکر ہلاک ہوجاتی ہے اس کا بیٹا بھی مرجاتا ہے جبکہ شوہر شدید متاثر ہونے کے باوجود بچ جاتا ہے، خاتون کو لگنے والا وائرس پوری دنیا میں ہنگامی صورتحال پیدا کردیتا ہے، خاتون کو وائرس ہانگ کانگ کے ایک شیف سے ہاتھ ملانے سے لگتا ہے، اس شیف کو یہ وائرس ایک ذبح شدہ سور کو ہاتھ لگانے سے لگا تھا جو کہ ایک چمگادڑ سے متاثر ہوا تھا، فلم میں موجودہ حالات سے متاثر کن حد تک مماثلت پائی جاتی ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والا وائرس جانوروں سے انسانوں کو منتقل ہوا تھا،خیال کیا جاتا ہے کہ کورونا وائرس بھی چمگادڑوں سے پھیلا،،فلمی اور حقیقی دونوں بیماریاں سانس کے مسائل کا سبب بنتی ہیں،فلم کی وبا زیادہ خوفناک بتائی گئی ہے جس سے ایک ماہ میں ڈھائی کروڑ سے زیادہ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں، جس میں شرح اموات کو 25 فیصد بتایا گیا تھا، جبکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق کوروناکی شرح اموات فی الحال 3.4 فیصد کے لگ بھگ ہے۔


































